BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 09:00 GMT 14:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاسوسی کےالزام میں قتل

وزیرستان میں طالبان فائل فوٹو
قبائلی علاقوں میں گزشہ پانع سال کے دوران دو سو سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک افغان باشندے کو امریکہ اورافغان نیشنل آرمی کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کردیا گیا ہے۔

شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ نے کہا ہے کہ اتوار کو میرانشاہ کے قریب ایک برساتی نالے سے حبیب الرحمٰن نام کے ایک افغان باشندے کی لاش ملی ہے۔ حکام کے مطابق لاش کو ٹاؤن کمیٹی میرانشاہ لایا گیا ہے اور ان کے قریب رشتہ داروں نے لاش کی شناخت کرلی گئ۔

حکام کے مطابق لاش کے ساتھ پشتوں زبان میں تحریر ایک خط بھی ملا ہے۔خط کے مطابق حبیب الرحمٰن کا تعلق افغانستان کے جنوبی ضلع پکتیا کے علاقے زورمت سے ہے۔

خط کے مطابق وہ کافی عرصہ سے افغان نیشنل آرمی اور امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتےتھے۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حبیب الرحمٰن ہفتے میں ایک دو بار سرحد کے اس پار جاتا ہے،جہاں وہ افغان نیشنل ارمی اور امریکی اہلکاروں سے ملتےتھے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ افغان نیشنل آرمی اور امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والوں کا یہی انجام ہوگا۔ مقامی لوگوں کے مطابق حبیب الرحمٰن کو تین دن پہلے افغان سرحد کے قریب سے نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کیا تھا۔

شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں گزشہ پانع سال کے دوران امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے یا پاکستان کی حمایت کرنے کے الزام میں دو سو سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد