امریکی جاسوسی کے الزام میں قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں ایک افغان باشندے کو قتل کر دیا ہے۔ لاش کو شناخت کے لیے سپین وام میں مقامی لوگوں نے ایک مسجد میں رکھا دیا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ شمالی وزیرستان نے بتایا ہے کہ میرانشاہ سے کوئی پچیس کلومیٹر دور شمال کی جانب سپین وام میں جمعرات کو ایک نالے سے سر کٹی لاش ملی ہے۔ لاش کے ساتھ پشتو تحریر میں ایک خط بھی ملا ہے، جس میں مقتول کا نام عبدالقیوم اور تعلق افغانستان سے بتایا گیا ہے۔ خط کے مطابق عبدالقیوم مجاہدین کے خلاف امریکہ کے لیے جاسوسی کرتا تھا اور ایسا کرنے والے کا یہی انجام ہوگا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عبدالقیوم پر کافی عرصہ سے مجاہدین کی نظر تھی اور آخر کار وہ اپنے انجام کو پہنچا۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق اگر لاش کی شناخت نہ ہو سکی تو اس کو میرانشاہ ٹاؤن کمیٹی منتقل کر دیا جائےگا۔ شمالی وزیرستان میں گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک بار پھر ٹارگٹ کِلنگ اور امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں لوگوں کو مارنے میں اضافہ ہوا ہے۔ مقامی طالبان اور حکومت گزشتہ ایک مہینہ سے ایک دوسرے پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں امریکی جاسوسی کے شبہ میں قتل09 June, 2007 | پاکستان وزیرستان: مشکوک جاسوس کی لاش02 May, 2007 | پاکستان سرحد: جاسوسی کےالزام میں دو قتل29 April, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں’مخبر‘ قتل05 March, 2007 | پاکستان مبینہ ’امریکی جاسوس‘ کا سر قلم28 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||