دو ہلاک: امریکی جاسوسی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیٹکل انتظامیہ کےذرائع کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں دو افراد کو قتل کردیا گیاہے۔ دونوں مبینہ جاسوسوں کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں لاشیں جمعہ کو شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے دو مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ سید الرحمن نامی افغانی کی لاش شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے پچیس کلومیٹر دورمغرب کی جانب لواڑہ منڈی کے ایک پہاڑی نالے سے ملی ہے۔ لاش کے ساتھ ایک خط بھی ملا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سید الرحمن امریکہ کے لیے جاسوسی کرتا تھا اور امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے والوں کا یہی حشر ہوگا۔ دوسری لاش جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن سروکئی کے گاؤں باروند سے ملی ہے۔ ہلاک ہونے والے کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔ اس لاش کے ساتھ کوئی خط نہیں ملا البتہ مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والا افغانی باشندہ ہے۔ ہلاک ہونے والے کی عمر اندازے کے مطابق پچیس سال کے لگ بھگ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کہیں سے اغواء کر کے لایا گیا تھا۔ اسے جمعہ کی صبح تین نامعلوم نقاب پوشوں نے گولی مار ہلاک کر دیا گیا۔ شمالی وزیرستان میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ اور جاسوسی کے الزام میں قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ماضی میں اس قسم کی ہلاکتوں کی ذمہ داری علاقے میں سرگرم مبینہ شدت پسندوں پر لگائی جاتی رہی ہے۔ گزشتہ سال پانچ ستمبر کو حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا تھا جس میں ٹارگٹ کلنگ پر پابندی لگائی گئی تھی مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ ختم نہیں ہو سکا ہے۔ | اسی بارے میں پانچ سپاہی ہمارے قبضے میں: قبائلی18 April, 2006 | پاکستان وزیرستان کا سچ معلوم نہیں19 April, 2006 | پاکستان وزیرستان جھڑپ: ایک ہلاک15 April, 2006 | پاکستان وزیرستان: ’ گیارہ ہلاک‘13 April, 2006 | پاکستان وزیرستان کارروائی، ’غیر ملکی‘ ہلاک13 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||