BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 06:39 GMT 11:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان: اہلکار ابھی تک لاپتہ

وزیرستان (فائل فوٹو)
یہ سکیورٹی اہلکار کنیگرم کے علاقے میں لاپتہ ہوگئے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے لاپتہ ہونے والے ایک سو سے زیادہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کا جمعہ کی سہ پہر تک بھی سراغ نہیں مل سکا ہے، تاہم جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ کی جانب سے مغوی سکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لیئے کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق جمعرات شام لاپتہ ہونے والے اہلکاروں میں ایک کرنل سمیت نو افسروں کے علاوہ آٹھ جی سی او یعنی صوبیدار اور نائب صوبیدار شامل ہیں۔

جمعرات کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے اس بات کی تردید کی تھی کہ یہ اہلکار مقامی طالبان کے قبضے میں ہیں یا یرغمال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’شروع میں ایک غلط فہمی ہوئی تھی جو اب دور ہو گئی ہے۔‘

مقامی انتظامیہ افسر شائستہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے لاپتہ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے محسود قبائل کا جرگہ ٹانک سے جنوبی وزیرستان روانہ ہوا ہے جس میں قبائلی عمائدین کے علاوہ مقامی علماء بھی شامل ہیں۔

پولیٹکل افسر نے لاپتہ اہلکاروں کی تعداد بتانے سےگریز کیا لیکن ایک دوسر ے سرکاری اہلکارنےنام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ تعداد افسروں سمیت ایک سو پینتس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغواء کاروں نے مغویان کو کئی گروپوں میں تقسیم کرکے مختلف علاقوں میں رکھا ہے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا ہے کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز نے درجنوں کی تعداد میں محسود قبیلے کے افراد کو حراست میں لینا شروع کر دیا ہے۔

انتظامیہ کے کہنے پر ٹانک سے وانا کے لیئےروانہ ہونے والے ایک قبائلی جرگے کے رکن شوکت محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کوڑ قلعہ کے قریب ایک چوکی پر وانا جانے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرگے کے بعض عمائدین کو بیٹھا لیا گیا ہے جبکہ کئی کو مقامی انتظامیہ کی مداخلت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

جرگہ رکن نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے پچاس کے قریب محسود قبیلے کے افراد کو بغیر کوئی وجہ بتائے پکڑ کر باڑ لگے ایک میدان میں بند کر دیا ہے۔ ان کی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے لیئے راشن اور دیگر سامان لیجانے والی چار گاڑیاں بھی لاپتہ ہوی ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سویلین گاڑیاں تھیں جوکہ سکیورٹی فورسز کے لیئے خوراک لیجا رہی تھیں۔

قبائلی انتظامیہ اکثر علاقائی ذمہ داری کے قانون کے تحت جس قبیلے پر شک ہو اس کے افراد کو حراست میں لے لیتی ہے تاکہ مذاکرات میں اس کی پوزیشن مضبوط ہو۔

جمعرات کو فوج کے تعلقات عامہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ موسم کی خرابی کے باعث یہ اہلکار اپنے کیمپ میں ہیں اور ان کا اپنے سینیئر حکام سے رابطہ ہوا ہے۔ ’یہ اہلکار موسم کی خرابی کے باعث ایک گاؤں میں رک گئے تھے اور کل (جمعہ) جب موسم ٹھیک ہوگا تو واپس آ جائیں گے۔‘ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل وحید ارشد نے کہا ’لاپتہ‘ ہونے والے اہلکاروں کی تعداد سو کے قریب تھی اور ان میں فوجی اور نیم فوجی دستے شامل تھے۔

 شروع میں ایک غلط فہمی ہوئی تھی جو اب دور ہوگئی ہے۔اگر وہ یرغمال بنائے جاتے تو کوئی لڑائی ہوتی، فائرنگ کے واقعات ہوتے لوگ ہلاک و زخمی ہوتے مگرایسا کچھ نہیں ہوا ہے
فوجی ترجمان

جمعرات کو مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز پر پیش قدمی کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ایک سو سے لیکر تین سو کے قریب فوجیوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

جمعرات کو ہی بیت اللہ محسود گروپ کے ترجمان ذوالفقار محسود نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ امن کمیٹی کے فیصلے کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر سکیورٹی فورسز نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خیسور، شولام، ممیکڑم، سلروغہ، آسمان مانزہ اور سام کے اطراف میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کی جس پر انہوں نے محاصرہ کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔

ذوالفقار محسود کا الزام تھا کہ یہ فوجی جنگی تیاری کر رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ترجمان کے مطابق یہ سکیورٹی اہلکار ہلکے اور بھاری اسلحے سے مسلح تھے۔ ’انہیں غیرمسلح کرکے قید خانوں میں بھیج دیا گیا۔‘

دو روز قبل ہی امن کمیٹی کی کوششوں سے مقامی طالبان نے انیس مغوی سکیورٹی اہلکار رہا کر دیے تھے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت سراروغہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقے میں پہاڑوں پر پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہے جس پر انہیں کارروائی کرنی پڑی۔

وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
اسی بارے میں
جاسوسی کےالزام میں قتل
12 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد