فوج پر حملے، تین اہلکار چار شہری ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تین مختلف واقعات میں شوال رائفل کے تین اہلکار اور چار شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ شوال رائفل کے تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پہلے واقعے کے بارے میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ میران شاہ کے قریب ایک چوکی سے ایف سی کے چند اہلکار دوسری چوکی کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں نصب بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے بنوں منتقل کردیا گیا ہے۔ میران شاہ بازار مسلسل بند ہے اور لوگ خوف کے مارے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو آٹھ بجے کے قریب شوال رائفل کا ایک قافلہ دوسلی سے میرانشاہ جا رہا تھا کہ ایشا چیک پوسٹ کے قریب سرپل پر ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ زخمیوں کو ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے بنوں منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دس گاڑیوں پر مشتمل اس قافلے میں اٹھاون اہلکار شامل تھے۔ بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد انہوں نے جوابی کارروائی شروع کی جس کے نتیجہ میں سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وحید ارشد کے مطابق ان افراد سے ریمورٹ کنٹرول بھی ملا ہے۔ گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق مقامی قبائل سے بتایا جاتا ہے جن کو پوچھ گچھ کے لیے میران شاہ سکاؤٹس قعلہ منتقل کردیا گیاہے۔ بکاخیل دھماکہ اورجوابی فائرنگ اس کے بعد فوجیوں نے جوابی کاروائی کی اور مشکوک ٹھکانوں پر فائرنگ کی۔ حکام کے مطابق اس دوران ایک مشکوک گاڑی قافلے کے سامنے سے گزری۔فوجی جوانوں نے کار کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہ رکی جس پر جوانوں نے گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجہ میں کار میں سوار چار شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ چار شہری ہلاک مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کا تعلق مقامی قبائل سے ہے۔ پیر کو شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں فوجی قافلے ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل ہوتے رہے جن کی نگرانی کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں پرواز کر رہے تھے۔ میران شاہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ بھی کی۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں زبردست خوف ہراس پھیل گیا اور میران شاہ بازار میں لوگوں دکانیں بند کرکے گھروں میں محصور ہوگئے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے مابین امن معاہد ٹوٹنے کے بعد فوجی قافلوں پر حملوں میں تیزی آئی ہےاور خاصہ دار فورس کی ایک بڑی تعداد نے ڈیوٹی کرنے سے نکار کردیا ہے۔ مقامی لوگوں کے خیال میں خاصہ دار فورس کی ڈیوٹی سے انکار کی وجہ مقامی طالبان کی جانب سے انہیں دھمکیاں ہیں۔ امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر خاصہ دار فورس نے ڈیوٹیاں نہیں چھوڑیں تو وہ بھی حملوں کا نشانہ بن سکتےہیں۔ یاد رہے مقامی طالبان سے امن معاہدہ ختم کرنے بعد ارمی قافلوں اور چوکیوں پر حملوں میں تیزی ائی ہے۔ |
اسی بارے میں مہمندایجنسی: مزار پرلال مسجد کابورڈ29 July, 2007 | پاکستان پولیس اہلکار فائرنگ سے ہلاک29 July, 2007 | پاکستان دیر: سب انسپکٹر سمیت تین ہلاک28 July, 2007 | پاکستان ’صوبے کوفوج کی ضرورت نہیں‘27 July, 2007 | پاکستان وزیرستان: حملے میں فوجی ہلاک26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||