BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 July, 2007, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج پر حملے، تین اہلکار چار شہری ہلاک

اہلکار (فائل فوٹو)
شوال رائفل کا قافلہ دوسلی سے میران شاہ جا رہا تھا (فائل فوٹو)
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تین مختلف واقعات میں شوال رائفل کے تین اہلکار اور چار شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
شوال رائفل کے تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پہلے واقعے کے بارے میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ میران شاہ کے قریب ایک چوکی سے ایف سی کے چند اہلکار دوسری چوکی کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں نصب بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین اہلکار ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں کو ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے بنوں منتقل کردیا گیا ہے۔ میران شاہ بازار مسلسل بند ہے اور لوگ خوف کے مارے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو آٹھ بجے کے قریب شوال رائفل کا ایک قافلہ دوسلی سے میرانشاہ جا رہا تھا کہ ایشا چیک پوسٹ کے قریب سرپل پر ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔ زخمیوں کو ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے بنوں منتقل کردیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دس گاڑیوں پر مشتمل اس قافلے میں اٹھاون اہلکار شامل تھے۔ بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد انہوں نے جوابی کارروائی شروع کی جس کے نتیجہ میں سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وحید ارشد کے مطابق ان افراد سے ریمورٹ کنٹرول بھی ملا ہے۔

گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق مقامی قبائل سے بتایا جاتا ہے جن کو پوچھ گچھ کے لیے میران شاہ سکاؤٹس قعلہ منتقل کردیا گیاہے۔

بکاخیل دھماکہ اورجوابی فائرنگ
مقامی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ گیارہ بجے دن کے قریب ایک فوجی قافلہ میرانشاہ سے بنوں جا رہا تھا کہ نیم قبائلی علاقہ بکاخیل میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں فوج کے چار اہلکار زخمی ہوگئے۔

اس کے بعد فوجیوں نے جوابی کاروائی کی اور مشکوک ٹھکانوں پر فائرنگ کی۔ حکام کے مطابق اس دوران ایک مشکوک گاڑی قافلے کے سامنے سے گزری۔فوجی جوانوں نے کار کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ نہ رکی جس پر جوانوں نے گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجہ میں کار میں سوار چار شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

چار شہری ہلاک
پیر کو ایک تیسرے واقعہ میں حکام کے مطابق بنوں میرانشاہ روڈ پر نیم قبائلی علاقے گربز میں چند مشکوک ٹھکانوں کو گن شپ ہیلی کاپٹروں نے نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کا تعلق مقامی قبائل سے ہے۔

پیر کو شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں فوجی قافلے ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل ہوتے رہے جن کی نگرانی کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹر بھی علاقے میں پرواز کر رہے تھے۔

میران شاہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے پروازیں کیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ بھی کی۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں زبردست خوف ہراس پھیل گیا اور میران شاہ بازار میں لوگوں دکانیں بند کرکے گھروں میں محصور ہوگئے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے مابین امن معاہد ٹوٹنے کے بعد فوجی قافلوں پر حملوں میں تیزی آئی ہےاور خاصہ دار فورس کی ایک بڑی تعداد نے ڈیوٹی کرنے سے نکار کردیا ہے۔ مقامی لوگوں کے خیال میں خاصہ دار فورس کی ڈیوٹی سے انکار کی وجہ مقامی طالبان کی جانب سے انہیں دھمکیاں ہیں۔

امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد مقامی طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر خاصہ دار فورس نے ڈیوٹیاں نہیں چھوڑیں تو وہ بھی حملوں کا نشانہ بن سکتےہیں۔

یاد رہے مقامی طالبان سے امن معاہدہ ختم کرنے بعد ارمی قافلوں اور چوکیوں پر حملوں میں تیزی ائی ہے۔

حب بم دھماکہحب ہلاکتیں
’بم دھماکہ خود کش حملہ ہوسکتا ہے‘ پولیس
سوات خان ’زمین پھٹ گئی‘
ہنگو خودکش حملے کے زخمیوں کے بیانات
 جنرل مشرفدس جولائی کے بعد
لال مسجد آپریشن، جنرل مشرف کے لیے لاٹری؟
بم حملہانیس خود کش حملے
چھ ماہ، انیس حملے، ایک سو چھیاسی ہلاکتیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد