BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 July, 2007, 13:47 GMT 18:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمندایجنسی: مزار پرلال مسجد کابورڈ

لال مسجد
مسجد کھلتے ہی کچھ لوگوں نے مسجد کی دیواروں کو پھر سے سرخ رنگ کرنا شروع کر دیا جسے حکومت نے تبدیل کر دیا تھا
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد پر مبینہ طورپر قبضہ کر کے اس پر ایک بورڈ لگا دیا ہے جس پر لال مسجد لکھا ہوا ہے۔

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ سنیچر کی رات ستر کے قریب مسلح طالبان نے مہمند ایجسنی کے تحصیل لاکھڑو میں غازی آباد کے مقام پر قائم تحریک آزادی کے ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد پر قبضہ کرکے وہاں کی مقامی انتظامیہ کو بے دخل کردیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح شدت پسندوں نے جامعہ مسجد پر ایک بورڈ بھی نصب کیا ہے جس پر لال مسجد لکھا ہوا ہے۔

مہمند ایجنسی کے ایک مقامی صحافی مکرم خان عاطف نے اتوار کو غازی آباد جاکر قابض طالبان جنگجوؤں سے ملاقات کی۔ انہوں نے واپسی پر بی بی سی کو بتایا کہ مزار اور مسجد پر تقریباً ستر کے قریب افراد کا قبضہ ہے جو بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے نقاب اوڑھے ہوئے ہیں اور مزار اور مسجد کے اردگرد کے علاقے میں پوزشنیں سنبھالی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد اور مزار کے اندر داخل ہونے والوں کی تلاشی لی جاتی ہے۔

مکرم خان کے بقول مسجد کے اندر ان کی طالبان کے ایک رہنما سے ملاقات بھی ہوئی جس نے اپنا نام عمر خالد بتایا۔ ان کے مطابق طالبان کے رہنما نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں آپریشن کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حکومت نے ایک مسجد اور مدرسہ کو مسمار کیا ہے لیکن وہ ملک کے کونے کونے میں لال مسجد اور مدرسے بنائیں گے۔ طالبان رہنما اس موقع پر اعلان کیا کہ حاجی صاحب ترنگزئی اور جامعہ حفصہ ام حسان کے نام سے علاقے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے دو مدرسے قائم کئے جائیں گے۔

لال مسجد آپریشن کا ردعمل
 مہمند ایجنسی سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ رشید نے بھی مزار اور مسجد پر قبضے کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کے خیال میں یہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں آپریشن کا ردعمل ہو سکتا ہے
سینیٹر حافظ رشید

اس سلسلے میں مہمند ایجنسی کےایک سرکاری اہلکار سے رابط کیا گیا تو انہوں نے مزار اور مسجد پر قبضہ کی تو تصدیق کی تاہم مزید بات کرنے سے انکار کیا۔

مہمند ایجنسی سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ رشید نے بھی مزار اور مسجد پر قبضے کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کے خیال میں یہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں آپریشن کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مقامی طالبان ہیں جن کی شہرت علاقے میں اچھی ہے اور عوام بھی ان سے خوش ہیں۔

سینیٹر رشید کا کہنا تھا کہ مہمند ایجنسی کے قبائل افغانستان اور پاکستان کے طالبان کے حامی ہیں لہذا اس سے علاقے میں امن وامان کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

ادھر قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں بھی حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے ایک مدرسے پر قبضہ کرکے وہاں اپنا مرکز قائم کرلیا ہے۔

کرم ایجنسی کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو تصدیق کرکے بتایا کہ کچھ دنوں سے لوئر کرم کے علاقے بلایمینہ میں ایک مقامی عالم دین نے چند جنگجوؤں کے ہمراہ نکل کر دینی مدرسے پر قبضہ کرلیا اور وہاں اپنا مرکز قائم کرلیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگجو خودکار ہتھیاروں سے لیس ہو رہے ہیں اور علاقے میں گشت بھی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد