BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 July, 2007, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جیسے زمین پھٹ گئی ہو۔۔۔‘

سوات خان
جیسے زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان ٹوٹ پڑا ہو: سوات خان
صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں جمعرات کی صبح ہونے والے مبینہ کار بم خود کش حملے میں زخمی ہونے والے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جیسے زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔ اس وقت ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا تھا۔

سِول ہپستال ہنگو کے ایمرجنسی وارڈ میں زیر علاج عزیز اللہ آفریدی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام بتایا کہ وہ اپنے گاؤں سے سائیکل پر ہنگو شہر جا رہے تھے جب وہ پولیس ٹریننگ کالج کے تربیتی مرکز کے سامنے پہنچے تو وہاں ایک سوزوکی گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’دھماکہ مجھ سے کوئی تیس پینتیس میٹر کے فاصلے پر ہوا لیکن اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ میں سائیکل سے گر گیا اور کچھ پتھر کے ٹکڑے بھی لگے جس سے میرے چہر پر زخم آئے۔‘

 دھماکہ مجھ سے کوئی تیس پینتیس میٹر کے فاصلے پر ہوا لیکن اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ میں سائیکل سے گر گیا اور کچھ پتھر کے ٹکڑے بھی لگے جس سے میرے چہر پر زخم آئے۔
عزیز اللہ آفریدی
ان کے بقول ’دھماکے کی آواز اتنی خوفناک تھی کہ جیسے پورے علاقے میں شدید قسم کا زلزلہ آیا ہو۔ ہر طرف چیخ وپکار تھی۔ شروع میں تو ہم اتنے خوفزدہ ہوئے کہ معلوم نہیں ہورہا تھا کہ یہ کیا ہوا ہے۔ سڑک پر ہر طرف لاشیں اور زخمی پڑے ہوئے تھے۔‘

عزیز اللہ نے بتایا کہ ’اس وقت عجیب قسم کے حالات تھے، میں زور زور سے کلمہ پڑھ رہا تھا۔ میرے ساتھ زمین پر اور بھی زخمی پڑے تھے جو مدد کےلیے چیخ رہے تھے۔‘

اس دھماکے میں زخمی ہونے والے کچ کلی کے ایک عینی شاہد سوات خان نے بتایا کہ وہ سواریوں کی گاڑی میں اورکزئی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹرز جا رہے تھے اور ان کے ساتھ گاڑی میں بارہ دیگر سواریاں بھی تھیں۔

عزیز اللہ آفریدی
عزیز اللہ آفریدی
انہوں نےکہا کہ ’میں نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ کی سوزوکی گاڑی تیزی سے تربیتی مرکز کی جانب مڑی اور پھر ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے ہماری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔‘

سوات خان کے بقول ’دھماکے کے بعد ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے زمین پھٹ گئی ہو یا آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔ لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، ہر طرف افراتفری کا ماحول تھا۔ بعض لوگ چیخ چیخ کر رو رہے تھے لیکن تھوڑی دیر کے بعد پولیس والے آئے اور انہوں نے زخمیوں کو اٹھایا۔‘

انہوں نے بتایا کہ جس گاڑی میں حملہ آور آیا تھا اس گاڑی کے ٹکڑے دور دور تک گرے ہیں جس سے اردگرد گاڑیوں میں سوار لوگ زخمی ہوئے جبکہ اس کے علاوہ ایک اور پِک اپ گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

حب دھماکے میں زخمیبم کے نشانے پر
حب میں جائے وقوعہ پر مزدور کام کر رہے تھے
حملہ اور دھماکہ
حب میں دھماکہ، ہنگو میں خودکش حملہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد