ہنگو اور حب میں دھماکے، 33 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے علاقے حب میں ایک بازار میں سڑک پر نصب بم پھٹنے سے سات پولیس اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں ایک کار خودکش بم حملے میں سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ حب بلوچستان کا صنعتی علاقہ ہے جو کراچی سے قریب اور سندھ اور بلوچستان کی صوبائی سرحد پر واقع ہے۔ گزشتہ دنوں ملک کے شمالی حصے میں بم دھماکے ہوئے ہیں تاہم ملک کے جنوبی حصے میں ہونے والا یہ پہلا بم دھماکہ ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا لال مسجد کے واقعہ کے خلاف کہیں یہ شدت پسندوں کی کارروائی ہے یا پھر اس کا تعلق بلوچستان میں طویل عرصے سےجاری علیحدگی پسند تحریک سے ہے۔ بلوچستان پولیس کے سربراہ طارق کھوسہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کا قافلہ پانچ چینی شہریوں کو لے کر کراچی کی طرف جا رہا تھا کہ حب بازار سے گزرتے ہوئے غالباً سڑک پر نصب بم کا دھماکہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اس دھماکے کا نشانہ چینی شہری تھے۔ اس دھماکے میں پولیس کی ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ دس افراد موقع پر ہی ہلاک جبکہ پچیس افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم چینی شہری اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ حب پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او عبداللہ جان آفریدی نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اس حملے میں گاڑی میں سوار سات کے سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ ریمورٹ کنٹرول بم دھماکہ تھا یا خود کش حملہ۔ کراچی سے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق واقعہ کے بعد چینی باشندوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ چینی باشندے ضلع لسبیلہ کے مقام ددھر میں معدنیات کی تلاش کے کام میں معاونت کر رہے ہیں۔
موقع پر موجود امدادی ادارے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تیئس ہے۔ اُدھر صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز میں ایک مبینہ کار بم خودکش حملے میں سات افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد پولیس اہلکاروں کی بتائی جا رہی ہے۔ ہنگو کے ضلعی رابطہ افسر فخرعالم محمد زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعرات کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب سوزوکی آلٹو گاڑی میں سوار ایک خودکش حملہ آور نے پولیس ٹریننگ کالج کے ایک تربیتی مرکز میں داخل ہونے کوشش کی۔ مرکز کے میدان میں پولیس اہلکار تربیت میں مصروف تھے۔
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملہ آور کو جب تربیتی مرکز کے گیٹ پر روکا گیا تو اس دوران اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے جبکہ قریب کھڑی دو اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی بڑھاتے ہوئے ہنگو کوہاٹ روڈ ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دی ہنگو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ بعض زخمیوں کو کوہاٹ اور پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ ضلعی رابطہ افسر کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کا سر بھی ملا ہے جو پولیس نے اپنے تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیس ٹریننگ کالج کے تربیتی مرکز کے میدان میں ہر صبح پریڈ ہوتی ہے جس میں سینکڑوں پولیس اہلکار حصہ لیتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسلام آباد میں لال مسجد کے واقعہ کے بعد اس ماہ کے دوران ملک کے شمالی حصوں میں بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں اب تک 140 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں چوکی پرحملہ، پانچ حملہ آور ہلاک18 July, 2007 | پاکستان ’حملے حکومتی پالیسی کا ردعمل‘18 July, 2007 | پاکستان ’دھماکے کانشانہ چیف جسٹس تھے‘18 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج18 July, 2007 | پاکستان ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان یہ خود کش حملہ تھا: طارق عظیم17 July, 2007 | پاکستان دھماکہ، وکلاء کا یومِ سوگ18 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||