جنرل مشرف کے لیے لاٹری کا ٹکٹ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو اور دس جولائی میں ویسے تو محض چوبیس گھنٹوں کا فرق ہے لیکن شاید یہ چوبیس گھنٹے پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کے لیے ان کی ساری زندگی کے تین اہم ترین مواقع میں سے ایک ہیں۔ انیس سو اٹھانوے میں فوج کے سربراہ کے طور پر دراس اور کرگل کی برفانی چوٹیوں پر چڑھائی تو بلاشبہ آسان تھی لیکن وہاں سے پسپائی یقیناً جنرل مشرف کے لیے آج بھی شرمندگی کا باعث ہے لیکن یہی ہزیمت ان کی زندگی کا وہ اہم پہلا لمحہ تھی جس سے دوسرا اہم ترین لمحہ جڑا ہوا تھا۔ کرگل کی کارروائی جب میاں نواز شریف کے سر نہیں ڈالی جاسکی تو جواب میں فوج کے بندوق بردار سربراہ اور عوام کے مینڈیٹ بردار وزیراعظم کے درمیان جو محاذ آرائی شروع ہوئی وہ جنرل مشرف کے مطلق العنان اقتدار پر منتج ہوئی اور اب آٹھ برس کی عمر کو پہنچ رہی ہے۔ ان آٹھ برسوں میں جنرل مشرف کی قسمت یاور رہی اور ملکی ہو غیرملکی کوئی مسئلہ ان کے لیے بحران نہ بن سکا۔
پر اب دس جولائی کے بعد جنرل مشرف لگتا ہے خود اپنے اندازوں سے بھی زیادہ مقدر کے سکندر بن گئے ہیں۔ نو جولائی سے پہلے جنرل مشرف کے امریکی ملجا و ماوٰی بھی نمائندے پر نمائندے بھیج کر بلاوردی اور بے نظیر جمہوریت کی نہ صرف اہمیت انہیں باور کرا رہے تھے بلکہ اس پودے کی آبیاری کے لیے کھلے عام وعظ و نصیحت سے بھی گریز نہ کر رہے تھے۔ نو جولائی تک صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں کے مصداق جنرل مشرف سے مذاکرات کی پینگیں بڑھانے والی بے نظیر بھٹو بھی دس جولائی کے بعد سامنے آنے پر مجبور ہیں۔ کچھ عرصے پہلے تک جہاد فی سبیل اللہ کے نعرے لگانے والی فوج کو اپنا پشتیبان سمجھنے والے جہادی گروپ بھی دس جولائی کے بعد اپنے سہانے سپنوں سے باہر آنے اور فوج کے مقابل کھڑے ہونے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ سترہویں آئینی ترمیم سے جنرل مشرف کو آئین کی دفعہ چھ کی زد سے، جو آئین تاراج کرنے کو موجب سزائے موت بغاوت قرار دیتی ہے، بچانے والی مجلس عمل بھی وکلاء کی تحریک کی آڑ میں جنرل مشرف کی مخالفت کے بجائے تنہا مدارس کے تحفظ کے لیے سامنے آنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ ایسی تنہا کہ ان کے علاوہ کوئی ان کا ساتھی نہیں۔
اب تک کا جنرل مشرف کا دورِ اقتدار اس پر شاہد ہے کہ انہوں نے نو مارچ سے پہلے تک اگر کسی کی خوشنودی کو اہمیت دی تو وہ امریکی قیادت میں مغربی حکومتیں تھیں۔ پاکستان کے عوام کو انہوں نے نہ پہلے کبھی درخورِ اعتناء سمجھا نہ ہی شاید اب سمجھتے ہیں۔ نومارچ اور نو جولائی کے درمیان جنرل مشرف سے صاف شفاف انتخابات اور بلاوردی جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے امریکہ اور مغرب اب نہ صرف اس موضوع پر لب سیے ہوئے ہیں بلکہ ببانگ دہل باوردی جنرل مشرف کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ بات بھی یقینی ہے کہ ناجائز ذرائع استعمال کر کے بھی اگر جنرل مشرف اقتدار پر قابض رہے تو اب امریکہ یا مغرب کے ماتھے پر شکن نہ آئے گی۔ لال مسجد آپریشن کی پرجوش حمایت کر کے بینظیر بھٹو نے اپنے لیے حزب اختلاف کے دروازے تقریباً بند کرلیے ہیں اور اب بظاہر ان کے لیے جنرل مشرف کی ہم سفری کا راستہ ہی رہ گیا ہے۔ فوج پر پے درپے حملوں سے ملک میں اس ہنگامی حالت کے نفاذ کا بھی اب جواز پیش کیا جاسکتا ہے جس کا نتیجہ اسمبلیوں کی مدت میں اضافہ اور عام انتخابات سے پہلے صدارتی انتخاب بنتا ہے۔
لال مسجد میں مرنے والے لیفٹننٹ کرنل ہارون اسلام اور دیگر فوجیوں کی مانند، خودکش حملوں میں فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتیں فوج میں جہادی گروپوں کے خلاف کارروائی کے لیے دباؤ بڑھائیں گی اور اگر کوئی اپنے ہی عوام سے بات چیت کا حامی تھا بھی تو وہ خاموش ہوجائے گا۔ پشتون صوبے سرحد میں پنجاب کے سپاہیوں کی اکثریت والی فوج کی تعیناتی اگر ایک طرف وہاں نفرت کو جنم دے گی تو دوسری جانب فوجیوں کی ہلاکتوں پر پنجاب کے عوام میں عبدالرشید غازی جیسوں کے مرنے پر پیدا ہونے والے مخالفانہ جذبات کا بھی تریاق ثابت ہوگی۔ بطور سود، مشرف مخالف پشتون پنجابی اتحاد کی پیش بندی بھی ہو جائے گی۔ اور اس سب کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کے حق میں سپریم کورٹ کے کسی ممکنہ فیصلے سے ملک میں جس مشرف مخالف تحریک کو مہمیز مل سکتی تھی، اس کا بھی توڑ ہوسکے گا۔ واقعی، نو اور دس جولائی کے درمیان کے چوبیس گھنٹے لگتا ہے جنرل مشرف کے لیے لاٹری کا ٹکٹ بن رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||