رشید غازی : میڈیا سے کھیلنے کا مزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ماہ مولانا عبدالرشید سے ملنے پہنچا تو ان کے خادم نے لال مسجد سے ملحقہ طالبات کے مدرسے جامعہ حفصہ کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں جوتے اتار کر داخل ہونے کا کہا۔ کمرے میں غالیچے بچھے تھے اور دائیں جانب غازی عبدالرشید کمپیوٹر پر مصروف نظر آئے ۔ساتھ ہی کلا کوف بھی رکھی تھی۔ غازی صاحب نے کہا: ’دیکھتے کیا ہو کلا کوف ہے۔ اس سے چھوٹا راکٹ فائر کیا جاسکتا ہے جو دیوار توڑ سکتا ہے اور اگر راکٹ میں پیٹرول بم وغیرہ نصب کرکے فائر کریں تو ہدف پر دھماکے کے ساتھ آگ بھی لگ سکتی ہے‘۔ مدرسے کے دروازے پر پہلے ہی ڈنڈا بردار طالب اور غازی صاحب کے حجرے کے باہر کلاشنکوف اور جدید رائفلز سے مسلح نقاب پوش محافظوں کو دیکھ چکا تھا۔ لیکن کمرے میں کمپیوٹر، کلا کوف اور غازی کا امتزاج عجیب سا لگا۔ غازی صاحب نے کہا کہ چند روز سے’براڈ بینڈ کنکشن‘ لگوانے کے بعد انٹر نیٹ کی رفتار کمال ہوگئی ہے۔ میں نے اپنے تھیلے سے کیمرہ نکالا اور کہا کہ ذرا کمپیوٹر پر کام کیجئے تو بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے تازہ تصویر بناؤں۔ انہوں نے کلا کوف کو ہٹایا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ لیجیے بنائیے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کلا کوف ہٹائے بنا بات نہیں بنے گی ۔ لیکن وہ مصر رہے کہ تصویر میں یہ نہیں آنی چاہیے۔
ان کی جانب سے حکومت کو آئے روز خود کش حملوں کی دھمکیوں کے تناظر میں بھی بات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ خود کش جیکٹ پندرہ سو سے اٹھارہ سو روپوں میں تیار ہوتی ہے۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنے مرحوم والد کے نام اسامہ بن لادن کا لکھا ہوا خط بھی دکھایا۔ ان سے بات چیت میں محسوس ہوا کے موصوف کو میڈیا سے کھیلنے میں مزا آتا ہے اور ’آنٹی شمیم‘ پر برائی پھیلانے کا الزام لگا کر تین روز مدرسے میں محبوس رکھنے پر انہیں دنیا بھر میں جوشہرت ملی اس کے بعد انہیں اور بھی مزا آنے لگا تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بعد میں پولیس اہلکاروں اور چینی خواتین کو یرغمال بنایا جس سے وہ عالمی ذرائع ابلاغ میں مزید نمایاں ہوئے۔ ایسے واقعات پر جہاں حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید ہوئی وہاں میڈیا نے بھی سوال اٹھایا کہ ریاست کے اندر ریاست ہے بننے کے عمل پر حکومت کیوں خاموش کیوں ہے؟۔
آخر کار حکومتی فورسز نے جب گزشتہ ہفتے عبدالرشید غازی کا گھیرا تنگ کیا تو روزانہ فائرنگ کے تبادلے، گرفتاریوں اور ہلاکتوں کی خبروں کے بعد دس جولائی کو آخر کار عبدالرشید غازی نے اپنی جان دے کر بھی میڈیا کو بڑی خبر فراہم کی۔ آپریشن کے دوران بیشتر نجی ٹی وی چینلز اور دیگر ذرائع ابلاغ میں یہ کہا جاتا رہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی ایک ٹوپی ڈرامہ ہے اور آخر میں حکومت مولانا غازی کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلے گی اور بس۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس ثابت ہوئی اور شاید ان کے کچھ حامی اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ میڈیا نے غازی کو’شہید‘ کروا دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||