BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں کی تعداد پرشکوک

عینی شاہدین کے مطابق ایک ایک تابوت میں دو دو لاشیں دفن کی گئیں
عینی شاہدین کے مطابق ایک ایک تابوت میں دو دو لاشیں دفن کی گئیں

لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں مارے جانے والوں کی تعداد کے بارے میں متضاد حقائق کی وجہ سے حکومتی دعوؤں کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ حکومت نے مرنے والوں کی تعداد پچہتر بتائی ہے اور یہ کوئی بھی فی الوقت بتانے کے لیے تیار نہیں کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد کتنی ہے۔

فوجی ترجمان وحید ارشد کہتے ہیں کہ آپریشن میں کُل پچہتر لوگ ہلاک ہوئے لیکن ایچ الیون کے قبرستان میں تہتر قبریں موجود ہیں اور عبدالستار ایدھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اڑسٹھ لاشوں کو غسل اور کفن دیا۔ لیکن کس قبر میں کس کی لاش ہے اس بارے میں تاحال کوئی کچھ نہیں بتاتا۔

اسلام آباد کی نئی قبرستان ایچ الیون میں لال مسجد کے ہلاک شدہ طلباء کی امانتاً تدفین کی گئی اور وہاں تہتر قبریں بنی ہوئی تھیں۔ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار کافی تعداد میں نظر آرہے تھے اور قبریں بنانے والوں سے جب بات کرنے کی کوشش کرتے تو سادہ کپڑوں میں اہلکار جیسے ہی قریب پہنچتے تو مزدور وغیرہ بات کرنا بند کردیتے۔

تہتر قبروں میں 170 لاشیں؟
 ایک مزدور عقیل خان سے جب بات کی تو انہوں نے بتایا کہ رات دو بجے سے تدفین جاری ہے اور ایک سو ستر لاشیں لائی گئیں جو تہتر قبروں میں دفن کی گئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس وقت موجود تھے اور انہوں نے دیکھا کہ ایک تابوت میں دو دو لاشیں بھی تھیں۔
موقع پاکر ایک مزدور عقیل خان سے جب بات کی تو انہوں نے بتایا کہ رات دو بجے سے تدفین جاری ہے اور ایک سو ستر لاشیں لائی گئیں جو تہتر قبروں میں دفن کی گئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس وقت موجود تھے اور انہوں نے دیکھا کہ ایک تابوت میں دو دو لاشیں بھی تھیں۔

جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ میں زیر تعلیم سینکڑوں طلباء اور طالبات میں سے کئی کے والدین اپنے بچوں کے بارے میں معلومات نہ ملنے کی وجہ سے خاصے پریشان ہیں۔

قبرستان میں صوبہ سرحد کے شہر مردان کی ایک دیہات سے آئے ہوئے حاجی رحمٰن خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے چچا زاد بھائی بائیس سالہ سیف اللہ کو تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے عزیز کا نام جیل کی فہرست میں ہے اور نہ ہی ہسپتال میں۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر سیف اللہ شہید بھی ہوگیا ہے تو ان کی میت انہیں دی جائے۔ ان کو اگر حکومت نے دفنایا ہے تو بھی وہ ان کی میت نکال کر اپنے آبائی گاؤں میں لے جائیں گے۔ ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ دفنائے جانے والوں کو غسل اور کفن دیا گیا کہ نہیں یا پھر ان کی نماز جنازہ بھی پڑھائی گئی یا نہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر باغ سے آئے ہوئے محمد اشفاق نے بتایا کہ وہ اپنے کزن اورنگزیب کی تلاش میں اڈیالہ جیل، سہالہ پولیس اکیڈمی اور ہسپتالوں سے ہوکر قبرستان آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ کس قبر میں کس کی لاش ہے۔

’اگر میرے کزن کو مار بھی دیا گیا ہے تو اس کی لاش تو دے دیں تاکہ اس کی تدفین اپنے وطن میں اسلامی طریقے سے کر سکیں۔‘

محمد اشفاق نے دعویٰ کیا کہ انہیں پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک تابوت میں دو دو لاشیں ڈال کر دفن کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق لاشوں سے بدبو کی وجہ سے فائر برگیڈ کے ذریعے پانی چھڑکا کر غسل دیا گیا ہے۔

قبرستان کے کونے میں ایک نوجوان نیاز خان سسکیاں لے رہے تھے اور پوچھنے پر بتایا کہ وہ اپنی انیس سالہ بہن عائشہ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عائشہ جامعہ حفصہ میں پڑھتی تھیں اور آپریشن شروع ہونے تک وہاں موجود رہیں لیکن اب کہیں سے ان کا پتہ نہیں چلتا۔

مردان کے رہائشی شمروز خان کا اپنے لاپتہ چوبیس سالہ بھتیجے، ہریپور کے شاہد علی خان اپنے بھائی اور چکوال کے عبدالماجد اپنے بھانجے کے لیے پریشان نظر آئے۔
حکومت نے میڈیا کو بے خبر رکھتے ہوئے چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں جس طرح اجتماعی تدفین کی اس سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تضادات اور شکوک و شہبات کے بارے میں حکومت کے کچھ وزراء سے مسلسل رابطے کی کوشش کی لیکن حکومت کا تاحال موقف معلوم نہیں ہوسکا۔

ہلاک و زخمی ہونے والوں کا اندراجلال مسجد اور صحافی
لال مسجد آپریشن اور معلومات کا حصول
عاصمہ جہانگیر’لال مسجد آپریشن‘
تاخیری حربوں، ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ
لال مسجد آپریشن
والدین بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند
عبدالرشید غازی’فرمانبردار بھائی‘
غازی برادران کا اتفاق جو برقرار نہ رہ سکا
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی فوج کو تشدد کے مختلف واقعات سے نمٹنا پڑا ہےتشدد کی فہرست
حالیہ برسوں میں پاکستان میں تشدد اور ہلاکتیں
 رشتہ دار پریشانرشتہ دار پریشان
لال مسجد آپریشن: طلباء کے رشتہ دار پریشان
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد