لال مسجد: بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد کیخلاف فوجی آپریشن نے جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفصہ میں پڑھنے والے طلبہ اور طالبات کے والدین کا اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوانے کا خواب بظاہر ادھورا کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق جامعہ حفصہ اور فریدیہ کے بارہ سو سے زیادہ طلبہ اور طالبات نے لال مسجد کے احاطے سے نکل کر فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصانات سے اپنے آپ کو بچا لیا ہے۔ بچنے والوں میں سے زیادہ تر اپنے گھروں کو واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن میں صوبہ سرحد کے دور دراز علاقے دیر سے تعلق رکھنے والے گل یوسف کےخاندان کے کئی بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔ میں نے گل رحمان سے یہی سوال کیا کہ کیا وہ دوبارہ اپنے بچوں کو کسی بھی دینی مدرسے میں داخل کروائیں گے، تو انہوں نے کہا: ’ اگر ان کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے تو ضرور داخلہ دلواؤں گا اور اگر نہیں، تو پھر کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ کیونکہ ابھی وہ میدان جنگ سے نکلنے میں کامیاب ہوکر گھر پہنچے ہیں۔‘ لال مسجد سے منسلکہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ میں پڑھنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلع دیر اور بٹگرام سے بتایا جاتا ہے۔ دیر کے گل رحمان کو اب بھی یہ امید ہے کہ لال مسجد سے منسلکہ مدارس میں درس و تدریس کا دوبارہ آغاز ہوگا اور وہ اپنے بیٹے سمیت تین بھتیجیوں کو واپس داخلہ دلوائیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ’اگر ان مدارس میں درس و تدریس کا آغاز کردیا گیا تو میں اپنے بچوں اور بچیوں کودوبارہ داخلہ دلواؤں گا اور اگرایسا نہیں ہوا تو پھر انہیں دیر میں یا صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں قائم دینی مدارس میں داخل کراؤنگا۔‘ جامعہ فریدیہ میں دو سال تک زیرتعلیم رہنے والے اٹھارہ سالہ حبیب الرحمن فوجی آپریشن سے قبل ہی مدرسے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ انکے والدین انہیں فی الوقت پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’میرے والدین مجھے واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں لیکن اگلے سال ضرور جامعہ فریدیہ جاؤنگا۔ میں عبدالرشید غازی اور دیگر ’شہداء کی مغفرت کے لیے دعائیں مانگ رہا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہتا ہوں۔‘ حبیب الرحمن کی اب بھی یہ تمنا ہے کہ پاکستان میں شرعی نظام کا نفاذ ہو۔’میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہو جس کے لیے محنت کی ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالٰی جنرل پرویز مشرف اور فوج کے دلوں میں خوف ڈالیں گے۔‘ |
اسی بارے میں غازی کی تدفین روجھان میں متوقع11 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||