BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لال مسجد: بچوں کی تعلیم کے لیے فکرمند

 متعدد طالب علم گرفتار بھی ہیں
متعدد طالب علم گرفتار بھی ہیں
لال مسجد کیخلاف فوجی آپریشن نے جامعہ فریدیہ اور جامعہ حفصہ میں پڑھنے والے طلبہ اور طالبات کے والدین کا اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلوانے کا خواب بظاہر ادھورا کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق جامعہ حفصہ اور فریدیہ کے بارہ سو سے زیادہ طلبہ اور طالبات نے لال مسجد کے احاطے سے نکل کر فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصانات سے اپنے آپ کو بچا لیا ہے۔

بچنے والوں میں سے زیادہ تر اپنے گھروں کو واپس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن میں صوبہ سرحد کے دور دراز علاقے دیر سے تعلق رکھنے والے گل یوسف کےخاندان کے کئی بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔

میں نے گل رحمان سے یہی سوال کیا کہ کیا وہ دوبارہ اپنے بچوں کو کسی بھی دینی مدرسے میں داخل کروائیں گے، تو انہوں نے کہا: ’ اگر ان کی جان کے تحفظ کی ضمانت دی جائے تو ضرور داخلہ دلواؤں گا اور اگر نہیں، تو پھر کبھی بھی نہیں۔۔۔۔ کیونکہ ابھی وہ میدان جنگ سے نکلنے میں کامیاب ہوکر گھر پہنچے ہیں۔‘

 بچوں نےگزشتہ دو روز سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور پوچھتے رہتے ہیں کہ ہمارے استاد کے ساتھ کیا ہوا اورمدرسے کا کیا بنا۔
گل رحمان
گل رحمان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بچوں کو مروانے کے لیے نہیں بلکہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ دلوایا تھا۔ انکے بقول لال مسجد کے خلاف آپریشن کے بعد انکے بچے اور بچیاں بہت ہی خفا ہیں اور مسلسل رو رہے ہیں۔ انکے مطابق’بچوں نےگزشتہ دو روز سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے اور پوچھتے رہتے ہیں کہ ہمارے استاد کے ساتھ کیا ہوا اورمدرسے کا کیا بنا۔‘

لال مسجد سے منسلکہ جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ میں پڑھنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق صوبہ سرحد کے ضلع دیر اور بٹگرام سے بتایا جاتا ہے۔ دیر کے گل رحمان کو اب بھی یہ امید ہے کہ لال مسجد سے منسلکہ مدارس میں درس و تدریس کا دوبارہ آغاز ہوگا اور وہ اپنے بیٹے سمیت تین بھتیجیوں کو واپس داخلہ دلوائیں گے۔

وہ کہتے ہیں: ’اگر ان مدارس میں درس و تدریس کا آغاز کردیا گیا تو میں اپنے بچوں اور بچیوں کودوبارہ داخلہ دلواؤں گا اور اگرایسا نہیں ہوا تو پھر انہیں دیر میں یا صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں قائم دینی مدارس میں داخل کراؤنگا۔‘

جامعہ فریدیہ میں دو سال تک زیرتعلیم رہنے والے اٹھارہ سالہ حبیب الرحمن فوجی آپریشن سے قبل ہی مدرسے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ انکے والدین انہیں فی الوقت پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’میرے والدین مجھے واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں لیکن اگلے سال ضرور جامعہ فریدیہ جاؤنگا۔ میں عبدالرشید غازی اور دیگر ’شہداء کی مغفرت کے لیے دعائیں مانگ رہا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتا رہتا ہوں۔‘

حبیب الرحمن کی اب بھی یہ تمنا ہے کہ پاکستان میں شرعی نظام کا نفاذ ہو۔’میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ہو جس کے لیے محنت کی ضرورت ہے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالٰی جنرل پرویز مشرف اور فوج کے دلوں میں خوف ڈالیں گے۔‘

’محصور‘ بچوں کے رشتہ دار’گولی کی آواز دل پر‘
مسجد میں’محصور‘ بچوں کے رشتہ داروں کے تاثرات
چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
لال مسجد’ کمپلیٹ ٹیرارِزم ہے‘
آپریشن کی ٹی وی کوریج سے بچوں پر کیا اثر پڑا؟
’گولی ماردیں‘
ہسپتالوں میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
اسی بارے میں
8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے
10 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد