تنہا رہ جانے والا فرمانبردار بھائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غازی عبدالرشید سے میری پہلی ملاقات اکیس جولائی دو ہزار پانچ کو جامعہ فریدیہ میں تب ہوئی، جب میں جامعہ فریدیہ میں زیر تعلیم طلباء سے ملنا چاہتا تھا اور مجھے بتایا گیا کہ اس کی اجازت صرف غازی عبدالرشید ہی دے سکتے تھے۔ غازی عبدالرشید نے میرا مختصر سا انٹرویو کرنے اور بچوں سے ملنے کی وجوہات جاننے کے بعد مجھے اجازت اس بنیاد پر دی کے وہ بچوں سے بات چیت کرنے کے دوران وہاں موجود رہیں گے۔ میں دو دن مسلسل جامعہ فریدیہ جاتا رہا اور غازی صاحب کے کمرے میں ہی جامعہ فریدیہ میں زیر تعلیم طلباء سے غازی رشید سے سامنے بات کی کہ مدرسے میں موجود بچے اپنے روزمرہ کے دن کیسے گزارتے ہیں۔ طلباء سے بات کرتے ہوئے کہیں کہیں غازی عبدالرشید نے مجھے ٹوک کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ دین کی تعلیم ہی اصل تعلیم ہے اور مدرسے کی زندگی نظم و ضبط کی زندگی ہوتی ہے۔ طلباء سے بات کرنے کے بعد جب میں اُن سے طلباء کی تصاویر لینے کی اجازت مانگی تو غازی صاحب نے کہا کہ مدرسے کے کسی بچے کی تصویر لینے کی اجازت نہیں۔ میرے اصرار پر اُنہوں نے کہا کہ اگر مولانا کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہونگے۔
کافی دیر انتظار کے بعد معاملہ یوں ختم ہوا کہ جن طلباء سے میں نے انٹرویو کیا تھا اُن میں سے بعض کی تصاویر لینے کی اجازت غازی عبدالرشید نے اس شرط پر دے دی کہ ایک نیلے رنگ کا کپڑا منگوایا گیا اور اُس کے سامنے کھڑے ہو کر طلباء نے تصاویر بنوائیں، تاکہ یہ تاثر ملے کے تصاویر شناختی کارڈ کے لیے بنوائی گئی تھیں۔ جب میں جامعہ فریدیہ سے نکلنے لگا تو رشید غازی صاحب نے کہا ’نیلے رنگ کے کپڑے کے سامنے کھڑے ہو کر تصاویر بنانے سے آپ کا مسئلہ بھی حل ہو گیا اور مولانا صاحب بھی ناراض نہیں ہونگے۔‘ اُن کا اشارہ اپنے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز غازی کی طرف تھا۔ غازی عبدالرشید سے بعد میں ٹیلی فون پر تو بارہا بات ہوتی رہی۔ لیکن اس سال اپریل شروع ہی سے جب لال مسجد انتظامیہ کی جانب سے شریعت کورٹ بنائے جانے اور سی ڈیز اور فلموں کو جلائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تو ایک بار پھر غازی صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے باہر نہیں جاتے۔ ان ملاقاتوں میں غازی عبدالرشید نے مجھے وہ کمرہ دکھایا جہاں تین کمپیوٹر پڑے ہوئے تھے، جہاں سے وہ لال مسجد کی ویب سائٹ اپ ڈیٹ کرتے اور اس کے علاوہ مولانا عبدالعزیز کی تقاریر سی ڈیز پر محفوظ کرتے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کی مدد سے مخلتف ویب سائٹوں پر بھی نظر رکھتے۔
میرے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور مدرسے کے بعض طلباء اس کام کو (ویب پبلشنگ) جانتے ہیں۔ میری اس ملاقات کے دوران بار بار اُنہیں فون آتے رہے اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ حکومت اور لال مسجد کے درمیان جاری کشیدگی کے حوالے سے انتظامیہ سے بات کر رہے ہیں۔ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کی مشاورت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرتے۔ میری آخری براہ راست ملاقات رشید غازی سے اکیس جون دوہزار سات کو اُس وقت ہوئی جب میں اُن سے سابق وفاقی وزیر نیلوفر بخیتار کی جانب سے لال مسجد کو بھیجے جانے والے قانونی نوٹس کے بارے میں ردعمل لینے کی غرض سے گیا۔ اس بار میں نے پہلی دفعہ چھ سے زائد اکٹھے اسلحہ بردار طلباء کو ان کے کمرے کے باہر کھڑے دیکھا۔ پوچھ گچھ کے بعد جب کمرے میں لے جایا گیا تو وہاں پر رشید غازی تو اُس وقت تک موجود نہیں تھے البتہ اُن کے بڑے بھائی مولانا عزیز سے ملاقات ہوگئی۔ تعارف کرایا اور آنے کی وجہ بتانے کے بعد انٹرویو کی درخواست کی تو مولانا عبدالعزیز کا بھی یہی کہنا تھا کہ غازی صاحب کو آنے دیں اُن سے مشورہ کر کے کوئی بات کریں گے۔
تھوڑی دیر بعد غازی عبدالرشید آئے تو سر پر ٹوپی کی بجائے، جو وہ عموماً پہنتے تھے، دستار باندھ رکھی تھی۔ غازی رشید نے کمرے میں آتے ہی اپنے بڑے بھائی سے پوچھا کہ وہ نیلوفر بختیار کے نوٹس میں کیا کہنا چاہتے ہیں۔ دونوں بھائی میرے سامنے ہی ایک دوسرے سے بات کرتے رہے کہ نیلوفر بخیتار کے نوٹس کے حوالے سے میڈیا کو کیا جواب دیا جانا چاہیے۔ اس بار بھی مولانا عزیز کے مشورے کے مطابق ہی یہ بیان دیا گیا کہ نیلوفر بختیار کی بدنامی کا سبب لال مسجد کی جانب سے جاری ہونے والا فتویٰ نہیں ہے۔ اب سے آٹھ دن پہلے میری آخری بار غازی رشید سے ٹیلی فون پر بات ہوئی کہ لال مسجد کی جانب سے ایک نجی ٹی وی چینل کی بنائی جانے والی فلم ’خدا کے لیے‘ پر کیوں اعتراضات اُٹھائے گئے ہیں اور ہر بار لال مسجد ہی کا نام کیوں آتا ہے؟ غازی رشید کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ حق اور اسلام کی بات کرتے رہیں گے اور جہاں اُنہیں کوئی ایسی چیز نظر آئے گی وہ حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کراتے رہیں گے۔ عبدالرشید غازی سے ملاقاتوں اور بات کے بعد مجھے تو یہی پتہ چلا کہ وہ کسی صورت اپنے بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے، لیکن اُن کے بڑے بھائی شاید اُنہیں اکیلا چھوڑ سکتے تھے اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔ |
اسی بارے میں آپریشن جاری، 200 کفن منگوا لیے گئے11 July, 2007 | پاکستان آپریشن کا دوسرا مرحلہ: ہلاکتیں اور گرفتاریاں معمہ11 July, 2007 | پاکستان عبدالرشیدغازی ہلاک، آپریشن جاری10 July, 2007 | پاکستان ’کوئی راستہ نہیں بچا تھا‘10 July, 2007 | پاکستان لال مسجد آپریشن: لمحہ بہ لمحہ 10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||