آپریشن جاری، 200 کفن منگوا لیے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لال مسجد میں حتمی فوجی کارروائی انتیس گھٹنے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہے اور عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے باوجود تاحال ’ آپریشن سائلنس‘ کے خاتمے کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ بدھ کی صبح لال مسجد کے علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ پھر شروع ہونےکی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق فوج کو وہاں اب بھی مزاحمت کا سامنا ہے، تاہم اس بات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ان سے دو سو کفن طلب کیے ہیں۔اس کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے مسجد کے نائب مہتمم مولانا عبد الرشید غازی کے آبائی گاؤں روجھان سے یہ اطلاعات ہیں کہ ان کی اور تین اور افراد کی میتوں کو آج ہیلی کاپٹر کے ذریعے تدفین کے لیے ان کے آبائی گاؤں لے جایا جائے گا۔ تاہم اس بارے میں جب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری محمد علی سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ابھی ایسا نہیں کیا جا رہا کیونکہ مولانا غازی کے ورثا نے ابھی لاش کی حوالگی کی درخوست دائر نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا غازی کی لاش اسلام آباد کے پِمز ہسپتال میں ہے جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کے حوالے سے آب پارہ تھانے میں مولانا غازی اور دیگر ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی اور قتل کا مقدمہ کل درج کر لیا گیا تھا اور مولانا غازی کی ہلاکت کے بعد یہ باقی دیگر افراد کے خلاف قائم رہے گا۔ زخمیوں کی راولپنڈی منتقلی
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ منگل کی صبح چار بجے لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں موجود افراد کے خلاف شروع ہونے والا آپریشن منگل کی شام سات بجے کے قریب مکمل کر لیا گیا تھا اور اب پاکستانی فوج کے کمانڈوز مسجد اور جامعہ حفصہ کے احاطے کو ’محفوظ‘ کرنے میں مصروف ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق اس آپریشن میں ایک کپتان اور آٹھ فوجی جوانوں سمیت پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اکیاون شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ لال مسجد کے احاطے سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب مزید چار دھماکے سنے گئے اور وہاں سے آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔ ادھر فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا تھا کہ آپریشن ابھی جاری ہے اور عبدالرشید غازی کے مکان اور چند کواٹرز میں مزاحمت کار اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی شاید بدھ کی صبح تک مکمل ہو جائے جس کے بعد ہی مکمل اعداد و شمار سامنے آسکیں گے۔ منگل کی صبح چار بجے شروع کیے جانے والے اس آپریشن کے دوران 29 فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کتنے سویلین اس کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں اگرچہ ان کی تعداد پچاس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔
اس سے قبل پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے کہا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ لال مسجد میں کتنے غیر ملکی شدت پسند تھے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے یہ آپریشن پاکستان سے باہر کسی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا۔ اپنی پہلی بریفنگ میں انہوں نے بتایا تھا کہ آپریشن کے شروع ہونے کے بعد سے ستائیس بچے باہر آ چکے ہیں۔ جامعہ حفصہ سے باہر آنے والی ستائیس خواتین جنہوں نے خود کو حُکام کے حوالے کیا ہے اُن میں مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی سربراہ اُم حسان بھی شامل ہیں۔ مسجداور مدرسے کے خلاف آپریشن کو سرکاری طور پر ’آپریشن سائلنس‘ کا نام دیا گیا تھا جس کے دوران وفاقی دارالحکومت شدید فائرنگ اوردھماکوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ اس فوجی آپریشن کے دوران لال مسجد اور چار منزلوں پر مشتمل جامعہ حفصہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے علاقے میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور منگل کی صبح کرفیو میں نرمی کے وقفے کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔ لال مسجد اور حکومت کے درمیان پیر اور منگل کی درمیانی شب اس وقت مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے حل نکلنے کی امید پیدا ہو گئی تھی جب سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی قیادت میں ایک وفد نے علماء کے ذریعے مسجد اور مدرسے کے مہتمم عبدالرشید غازی سے بات چیت شروع کی تھی۔ سوموار کو رات گئے حکومتی وفد نے عبدالرشید غازی سے بات چیت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔ تاہم رات کسی وقت مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد منگل کی صبح چار بجے کے قریب فوجی آپریشن کا فیصلہ کن دور شروع ہوگیا۔ |
اسی بارے میں علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان خطروں سے کھیلتے پاکستانی صحافی05 July, 2007 | پاکستان مدرسہ فریدیہ سے طلبا کی روانگی05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||