رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | پولیس اہلکار معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی |
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے پولیس کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کرکے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا ہے۔ کوہاٹ کے ضلعی رابط افسر شہاب علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقع اتوار کی صبح گیارہ بجے شہر سے چند کلومیٹر دور پہاڑی علاقے گھمگول کیمپ میں پیش آیا۔ ان کے مطابق پولیس چوکی کے چند اہلکار معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم افراد ان پر فائرنگ کردی جس سے ایک پولیس اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور حملہ آواروں کی تلاش کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلح افراد گھمگول چوکی کے ایک پولیس اہلکار کو اغواء کر نے کی کوشش کر رہے تھے، اسی دوران فائرنگ ہوئی جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوا۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو متعدد بار ریموٹ کنٹرول بم حملوں اور خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سنیچر کو بھی ضلع دیر میں پولیس پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ میں تین اہلکار مارے گئے تھے۔ ادھر پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے سکواٹس قلعے پر میزائل اور مارٹر گولے داغے ہیں تاہم واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔
 | میزائل اور مارٹر گولوں سے حملہ  سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات بابا پیکٹ کے پہاڑی علاقے سے نامعلوم افراد نے سکواٹس قلعہ پر تین میزائل اور دو مارٹر گولے فائر کئے جو قلعہ سے دور جا گرے  اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ |
باجوڑ کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ارشد نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات بابا پیکٹ کے پہاڑی علاقے سے نامعلوم افراد نے سکواٹس قلعہ پر تین میزائل اور دو مارٹر گولے فائر کئے جو قلعہ سے دور جا گرے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ میں توپ خانے کا استعمال کیا اور مشکوک ٹھکانوں پر گولے داغے۔واضح رہے کہ لال مسجد آپریشن کے بعد ملک میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ |