BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 August, 2007, 09:31 GMT 14:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو خودکش حملوں میں سات ہلاک

میران شاہ میں فوجی گشت پر (فائل فوٹو)
میران شاہ میں فوجی گشت پر (فائل فوٹو)
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو مختلف خودکش حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔

پہلا حملہ میرعلی کے قریب تقریباً صبح دس بجے ہوا جس میں پانچ اہلکار ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایک فوجی قافلہ چوکی کے قریب سے گزر رہا تھا۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی قمر چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔

دوسرا خودکش حملہ دو بجے کے قریب میرانشاہ رزمک روڈ پر پیش آیا جب ایک فوجی قافلہ بنوں سے رزمک جا رہا تھا۔ اس حملہ میں بھی خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔ حملے میں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک اور دوزخمی ہوگئے ہیں اور میرانشاہ رزمک روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیاگیا۔

ایک اور واقعہ میں جمعہ کی صبح میرانشاہ سے پانچ کلومیٹر جنوب کی جانب بانڈہ چیک پوسٹ پر تعینات سکیورٹی فورسز کے اہلکار ایک قریبی چشمہ سے پانی لاتے ہوئے ایک بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک فوجی اور دو سکاؤٹس فورس کے اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو میرانشاہ سکاؤٹس ہسپتال منتقل کردیاگیا۔

حکام کے مطابق فوج نے جوابی کارروائی میں میرانشاہ کے کئی مشکوک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان ٹھکانوں پرگن شپ ہیلی کاپٹرز سے فائرنگ کی گئی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

آج کے ان تمام واقعات کی ذمہ داری مقامی طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی نے قبول کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرعلی کے قریب فوجی قافلے میں دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئں اور میرانشاہ رزمک روڈ پربھی فوج کا کافی نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اج میرانشاہ کے قریب ایک فوجی ٹینک میں سوار تین اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے میرعلی اور سروبی میں مزید دو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کرنے کا دعویٰ بھی کیا اور گزشتہ روز بنوں میں ایف سی کے چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

انہوں نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے شمالی وزیرستان میں موجود فوجی چوکیوں کو نہیں ہٹایا تو عنقریب ہی خودکش حملوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق ان کے ساتھ اس وقت کئی سو خودکش حملہ آور موجود ہیں۔

شمالی وزیرستان میں امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد ایک باقاعدہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے اور جنوبی وزیرستان میں بھی حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے سکیورٹی فورسز کے پندرہ اہلکار تاحال رہا نہیں کیے گئے۔ گزشتہ اتوار کو جنوبی وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی مولانا معراج الدین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اغواءکاروں سے طے ہوا ہے کہ یہ اہلکار مرحلہ وار رہا کیے جائینگے۔ ان کے مطابق رہائی کا پہلا مرحلہ گزشتہ اتوار کے دو دن بعد شروع ہونا تھا تاہم ابھی تک ایسا نہیں ہوسکا۔

طالبان کا حکم
شمالی وزیرستان، کاروں کے کالے شیشے ممنوع
طالبان(فائل فوٹو)پنجابی طالبان کون؟
وزیرستان کے نئے جنگجو:عامر احمد خان
قبائلکون کس کے ساتھ ہے؟
جنوبی وزیرستان میں لڑنے والے قبائل کون ہیں؟
مغویان’مہذب طالبان‘
مغوی سرکاری اہلکاروں کو شیو کی اجازت تھی۔
’عام سی ڈی پر نہیں‘
’جہادی مواد پر مشتمل سی ڈیز پر پابندی ہے‘
میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
وزیرستان فائل فوٹووزیرستان صورتِ حال
شمال کےساتھ جنوبی وزیرستان کےحالات بدتر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد