BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 May, 2007, 14:50 GMT 19:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ترقیاتی کام کی وجہ سے اغواء ہوئے‘

زیر محمد وزیر اور دیگر مغویان
’تشدد نہیں کیا گیا‘
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے پانچ روز قبل اغواء ہونے والے نو سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مقامی طالبان کو اعتماد میں نہ لینا انکے اغواء کا سبب بنا تھا۔

گزشتہ جمعہ کو اغوا کیے گئے ان افراد کو بدھ کی صبح رہا کیا گیا جس کے بعد وہ پشاور پہنچے۔

شمالی وزیرستان سے ملحقہ صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں رہائی پانے والے سرکاری اہلکاروں میں چھ خواتین سمیت نو افراد شامل ہیں۔

طالبان کا حکم
 مقامی طالبان نے ہماری گاڑی روک کلاشنکوفیں تان لیں اور ہمیں اسلحہ اور موبائل فون حوالے کرنے کا حکم دیا۔
زیر محمد وزیر
ان افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ محمکہ صحت اور وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے علاقے میں تعلیم، صحت، صاف پانی اور معیار زندگی سے متعلق اعداد شمار اکٹھا کرنے کے لیےمشترکہ طور پر ہونے والے ایک دس روزہ سروے کے سلسلے میں گزشتہ جمعہ کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی سے میران شاہ جارہے تھے کہ عیدک کے مقام پر تقریباً پینتیس مسلح مقامی طالبان نے انہیں اغواء کر لیا۔

سروے ٹیم کے سربراہ زیر محمد وزیر کا کہنا تھا کہ ’مقامی طالبان نے ہماری گاڑی روک کلاشنکوفیں تان لیں اور ہمیں اسلحہ اور موبائل فون حوالے کرنے کا حکم دیا۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ہمارے ساتھ موجود پانچ سکیورٹی اہلکاروں نے اسلحہ ان کے حوالے کردیا اور بعد میں ان سکیورٹی اہلکاروں کو چھوڑ دیا گیا۔‘

زیر محمد کا کہنا تھا کہ انکے ساتھ چھ خواتین اور تین مرد اہلکار تھے اور طالبان نے خواتین کو تسلی دی کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا تاہم انہوں نے مرد اہلکاروں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دیں اور انہیں ایک نامعلوم مقام کی طرف روانہ کر دیا گیا۔

’مہذب طالبان‘
 ’طالبان ہمارے ساتھ انتہائی مہذب انداز، میں پیش آئے اور ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔
زیر محمد وزیر
زیر محمد کے بقول’دوران سفر طالبان نے ہم سے کہا کہ آپ لوگوں کو کچھ نہیں کہا جائےگا۔ ہمارا اختلاف حکومت سے ہے جس نے ہمارے ساتھ ہونے والے معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ علاقے میں ہر قسم کے ترقیاتی اور دیگر سرکاری کاموں کے سلسلے میں طالبان کو اعتماد میں لیا جائے گا لیکن حکو مت اس معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہی ہے۔‘

ان کے مطابق تین گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے کے بعد انہیں ایک نامعلوم مقام پرپہنچا دیا گیا جہاں مرد اہلکاروں کوایک گھر میں رکھا گیا جبکہ خواتین کو دوسرے گھر میں موجود خواتین کے حوالے کردیا گیا۔ زیر محمد کا کہنا تھا کہ ’طالبان ہمارے ساتھ انتہائی مہذب انداز سے پیش آئے اور ہم پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا گیا۔‘ انکے بقول ’ہمیں وقت پر وی آئی پی کھانا دیا جاتا جس میں چکن، چاول اور میوہ شامل تھا۔‘

اغواء ہونے والے ایک دوسرے شخص حاجی ملک اورکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ دوران گفتگو طالبان بار بار یہ کہتے رہے کہ وہ علاقے کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہاں سڑکیں، تعلیم و صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں تاہم انہیں یہ گلہ تھا کہ حکومت اس سلسلے میں انہیں اعتماد میں نہیں لے رہی ہے۔

حاجی ملک کا مزید کہنا تھا کہ’مقامی طالبان نےخواتین کے ساتھ اتنا اچھا سلوک کیا کہ جن کے ساتھ ہم نےایسا سلوک اپنےگھر میں بھی نہیں کیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن انہیں بہت خوف لاحق تھا مگر طالبان کی یقین دہانیوں کے بعد وہ کافی حد تک مطمئن ہوئے اور یہاں تک کہ ہم شیو کرتے تب بھی وہ اس پر اعتراض نہیں کرتے تھے۔

گفتگو کے دوران اغواء ہونے والے یہ اہلکار بہت ہشاش بشاش نظر آرہے تھے اور ان کی باتوں میں کسی قسم کے خوف کا شائبہ نہیں تھا اور وہ بہت ہی پراعتماد لہجے میں سوالوں کا جوابات دیتے رہے۔

واضح رہے کہ سرکاری سطح پر کہا گیا ہے کہ ان اہلکاروں کو ذاتی وجوہات کی بناء پر اغواء کیا گیا تھا۔

جنگ بندی کتنی موثر
بالآخر شمالی وزیرستان سے اچھی خبر آئی ہے
گلبدین حکمت یاررودادِ میران شاہ
حکمت یار کے پوسٹر اور طالبان کی چہل پہل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد