ایک سو سے زائد اہلکار ’اغواء‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سو پچیس سکیورٹی اہلکار جمعرات کی سہ پہر سے لاپتہ ہیں۔ تاہم دوسری جانب سے مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز پر پیش قدمی کا الزام لگاتے ہوئے سرکاری تعداد سے کہیں زیادہ تعداد میں فوجیوں کو یرغمال بنانے کا دعوی کیا ہے۔ بیت اللہ محسود گروپ کے ترجمان ذوالفقار محسود نے بی بی سی کو ٹیلیفون پر بتایا کہ امن کمیٹی کے فیصلے کے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر اندر سکیورٹی فورسز نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خیسور، شولام، ممیکڑم، سلروغہ، آسمان مانزہ اور سام کے اطراف میں بڑے پیمانے پر پیش قدمی کی جس پر انہوں نے محاصرہ کر کے سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ سکیورٹی اہلکار سولہ ٹرکوں میں سوار تھے کہ کنیگرم کے علاقے میں لاپتہ ہوگئے۔ ذوالفقار محسود کا الزام تھا کہ یہ فوجی جنگی تیاری کر رہے تھے جس کی وجہ سے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ترجمان کے مطابق یہ سکیورٹی اہلکار ہلکے اور بھاری اسلحے سے مسلح تھے۔ ’انہیں غیرمسلح کرکے قید خانوں میں بھیج دیا گیا ہے۔’ ُالبتہ اس دعوے کی فوجی ذرائع سے تصدیق ابھی نہیں ہوسکی ہے۔ دو روز قبل ہی امن کمیٹی کی کوششوں سے مقامی طالبان نے انیس مغوی سکیورٹی اہلکار رہا کر دیے تھے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت سراروغہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقے میں پہاڑوں پر پوزیشنیں مستحکم کر رہی تھی جس پر انہیں کارروائی کرنی پڑی۔ |
اسی بارے میں اہلکاروں کی رہائی منگل کو: جرگہ27 August, 2007 | پاکستان کرنل سمیت تین اہلکاروں کا اغواء25 August, 2007 | پاکستان دو خودکش حملوں میں سات ہلاک24 August, 2007 | پاکستان جاسوسی کےالزام میں قتل12 August, 2007 | پاکستان فوج پر حملے، تین اہلکار چار شہری ہلاک30 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||