’مہمند رائفلز اہلکار ہم نے اغواء کیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرگرم محسود جنگجو گروہ کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں سنیچر کو اغواء ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان کے قبضے میں ہیں۔ یہ دعویٰ بیت اللہ محسود گروپ کے ترجمان ذوالفقار محسود نے اتوار کو ایک نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بی بی سی ارود سروس سے بات کرتے ہوئے کیا۔ سنیچر کی شام پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نامعلوم مسلح افراد نے غلنئی سے محمد گٹ جانے والے مہمند رائفلز کے دس اہلکاروں کو قندرو کے مقام پر اغواء کر لیا تھا اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاپتہ اہلکاروں کو تلاش کرنے کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مہمند ایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی تصدیق کی تاہم مزید معلومات دینے سے انکار کیا تھا۔ بیت اللہ محسود کے ترجمان نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں جنڈولہ کے مقام پر ایک فوجی قافلے پر مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں دو فوجی گاڑیاں تباہ جبکہ متعدد فوجی ہلاک ہوئے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔ ذوالفقار محسود نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں مزید خودکش حملہ آور بھی ان کے پاس موجود ہیں جو ان کے امیر بیت اللہ محسود کے حکم پر جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ مہمند ایجنسی کی سرحدیں قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ملتی ہیں جہاں سنیچر کی صبح ایک مبینہ خودکش حملے میں ایف سی کے چار اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل تھے جو سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔ مہمند ایجنسی میں خود کو مقامی طالبان کہنے والے ایک مسلح گروہ نے ملیشاء فورسز کے ایک چوکی پر قبضہ کرلیا ہے۔ مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو مسلح افراد مشتمل ایک گروہ مرکزی مہمند باجوڑ سڑک پر اچانک نکل آئےاور قندرو کے مقام پر قائم ملیشیاء فورسز کی ایک چوکی پر قابض ہوگئے۔ مقامی افراد کے مطابق بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے لیس ان مسلح افراد نے سڑک پر دو تین مقامات پر ناکے بھی لگائے ہوئے ہیں جہاں گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جارہی ہے۔ قندرو سے ایک عینی شاہد معین خان صافی نے بتایا کہ مسلح افراد مرکزی مہمند باجوڑ سڑک پر ٹولیوں کی شکل میں گھوم رہے ہیں اور ان کے ساتھ گاڑیاں بھی ہیں۔ مہمند ایجنسی سے ایوان بالا کے رکن سینٹیر حافظ عبد الرشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلح گروہ کی طرف سے چوکی پر قبضے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق مسلح گروہ کا تعلق مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان سے ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ جنگ آزادی کے ایک ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر بھی قبضہ کیا تھا۔ سینٹیر حافظ رشید نے مزید بتایا کہ چوکی کا قبضہ چھڑانے کے لیے مہمندایجنسی کی انتظامیہ نے اتوار کو مقامی مشران کا ایک جرگہ بھی طلب کیا تھا جس میں ایجنسی کے تمام قبیلوں نے شرکت کی تاہم ان کے مطابق جرگے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔ |
اسی بارے میں اور اب مہمند رائفلز کے دس اہلکار اغوا01 September, 2007 | پاکستان باجوڑ: چار سکیورٹی اہلکار ہلاک01 September, 2007 | پاکستان وزیرستان: اہلکار ابھی تک لاپتہ31 August, 2007 | پاکستان ایک سو سے زائد اہلکار ’اغواء‘30 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||