BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 September, 2007, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مہمند رائفلز اہلکار ہم نے اغواء کیے‘

 (فائل فوٹو)
مہمند ایجنسی میں خود کو مقامی طالبان کہنے والے ایک مسلح گروہ نے ملیشاء فورسز کی ایک چوکی پر قبضہ کرلیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سرگرم محسود جنگجو گروہ کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں سنیچر کو اغواء ہونے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار ان کے قبضے میں ہیں۔

یہ دعویٰ بیت اللہ محسود گروپ کے ترجمان ذوالفقار محسود نے اتوار کو ایک نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بی بی سی ارود سروس سے بات کرتے ہوئے کیا۔

سنیچر کی شام پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں نامعلوم مسلح افراد نے غلنئی سے محمد گٹ جانے والے مہمند رائفلز کے دس اہلکاروں کو قندرو کے مقام پر اغواء کر لیا تھا اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاپتہ اہلکاروں کو تلاش کرنے کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

مہمند ایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی تصدیق کی تاہم مزید معلومات دینے سے انکار کیا تھا۔

بیت اللہ محسود کے ترجمان نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں جنڈولہ کے مقام پر ایک فوجی قافلے پر مبینہ خودکش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں دو فوجی گاڑیاں تباہ جبکہ متعدد فوجی ہلاک ہوئے تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

 حکومت نے لاپتہ اہلکاروں کو تلاش کرنے کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے
سرکاری ذرائع

ذوالفقار محسود نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں مزید خودکش حملہ آور بھی ان کے پاس موجود ہیں جو ان کے امیر بیت اللہ محسود کے حکم پر جان دینے کے لیے تیار ہیں۔

مہمند ایجنسی کی سرحدیں قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے ملتی ہیں جہاں سنیچر کی صبح ایک مبینہ خودکش حملے میں ایف سی کے چار اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل تھے جو سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

مہمند ایجنسی میں خود کو مقامی طالبان کہنے والے ایک مسلح گروہ نے ملیشاء فورسز کے ایک چوکی پر قبضہ کرلیا ہے۔

مہمند ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو مسلح افراد مشتمل ایک گروہ مرکزی مہمند باجوڑ سڑک پر اچانک نکل آئےاور قندرو کے مقام پر قائم ملیشیاء فورسز کی ایک چوکی پر قابض ہوگئے۔

مقامی افراد کے مطابق بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے لیس ان مسلح افراد نے سڑک پر دو تین مقامات پر ناکے بھی لگائے ہوئے ہیں جہاں گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جارہی ہے۔

 چوکی کا قبضہ چھڑانے کے لیے مہمندایجنسی کی انتظامیہ نے مقامی مشران کا ایک جرگہ بھی طلب کیا تھا جس میں ایجنسی کے تمام قبیلوں نے شرکت کی تاہم جرگے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی
سینٹیر حافظ رشید

قندرو سے ایک عینی شاہد معین خان صافی نے بتایا کہ مسلح افراد مرکزی مہمند باجوڑ سڑک پر ٹولیوں کی شکل میں گھوم رہے ہیں اور ان کے ساتھ گاڑیاں بھی ہیں۔

مہمند ایجنسی سے ایوان بالا کے رکن سینٹیر حافظ عبد الرشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلح گروہ کی طرف سے چوکی پر قبضے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق مسلح گروہ کا تعلق مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان سے ہے جنہوں نے گزشتہ ماہ جنگ آزادی کے ایک ہیرو حاجی صاحب ترنگزئی کے مزار پر بھی قبضہ کیا تھا۔

سینٹیر حافظ رشید نے مزید بتایا کہ چوکی کا قبضہ چھڑانے کے لیے مہمندایجنسی کی انتظامیہ نے اتوار کو مقامی مشران کا ایک جرگہ بھی طلب کیا تھا جس میں ایجنسی کے تمام قبیلوں نے شرکت کی تاہم ان کے مطابق جرگے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔

باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
مولانا فقیر’مشرف کی پالیسی‘
طالبان خود کش حملے کرنے پر مجبور: مولانا فقیر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد