عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | باجوڑ میں کسی سرکاری اہلکاروں کو ذبح کر کے ہلاک کرنے کا یہ پہلا واقع ہے |
قبائلی علاقے باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ انہیں سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں مبینہ طور پر گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ باجوڑ میں سرکاری اہلکاروں کو اس طرح ہلاک کرنے کا یہ پہلا واقع ہے۔ پولٹیکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں اہلکاروں کی لاشیں منگل کو علی الصبح صدر مقام خار سے تقریباً بیس کلومیٹر دور عنایت کلی میں سڑک کنارے ملی ہیں جنہیں نامعلوم افراد نے گلے کاٹ کر ہلاک کیا تھا۔ ان کے مطابق لاشوں کے ساتھ ضروری اعلان کے عنوان کےتحت پشتو زبان میں لکھا گیا ایک خط بھی ملا ہے جس پر درج ہے ’اسلام کے خلاف صدر بش اور جنرل مشرف سے تعاون کرنے والوں بالخصوص فوجیوں کا انجام یہی ہوگا‘۔ خط کے آخر میں ’منجانب ابو مصعب الزرقاوی گروپ‘ لکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باجوڑ سکاوئٹس سے تعلق رکھنے والے ان سپاہیوں کوگزشتہ رات پاک افغان سرحد کے قریب واقع کگہ پاس چیک پوسٹ سے خچروں پر راشن لے جاتے ہوئے اغواء کیا گیا تھا۔ان میں سے ایک کا تعلق صوبہ پنجاب جبکہ دوسرے کا صوبہ سرحد کے اکوڑہ خٹک سے ہے۔ حکام کے مطابق انہوں نے قبائلی ذمہ داری کے تحت تقریباً پچیس مقامی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے جاسوسی کے الزام میں قتل کیے جانے والے افراد کی لاشوں کے ساتھ ملنے والے پیغامات خطوط کے مقابلے میں اس مرتبہ خط کے مندرجات مختلف ہیں اور ایک نئے گروپ نے یا ایک نئے نام سے اسکی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ ’ابومصعب الزرقاوی‘ نامی گروپ کا کوئی وجود بھی ہے یا نہیں۔ |