رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حکومت حالات پر اب تک قابو نہیں پا سکی۔ (فائل فوٹو)۔ |
باجوڑ ایجنسی میں حکام کے مطابق ایک مبینہ خودکش حملے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ باجوڑ میں سکیورٹی فورسز پر یہ پہلا خودکش حملہ ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی صبح دس بجے کے قریب صدر مقام خار سے چند کلومیٹر دور تحصیل ماموند کے علاقے میں پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مبینہ خودکش حملہ آور نے اپنی گاڑی ایف سی کی ایک چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس سے وہاں پر موجود ایف سی کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک عام شہری مارا گیا۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے بعد چوکی میں موجود ایف سی کے اہلکاروں نے باہر نکل کر چاروں طرف بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی اور توپ کے گولے بھی داغے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس حملے کے بعد علاقے میں سخت خوف وہراس پھیل گیا جبکہ عنایت کلے اور اس کے اطراف میں واقع تمام بازار اور تجارتی مراکز بند ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد ماموند اور خار تحصیل کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ واقعہ کے بعد باجوڑ کے مقامی صحافیوں کو نامعلوم ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہیں جن میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ اس حملے کو خودکش حملہ نہ لکھا جائے بلکہ یہ ’ فدائی حملہ’ تھا۔ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقعہ کے بعد صدر مقام خار میں سول کالونی کے سامنے نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل سوار کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ تاہم حکام سے اس واقعہ کی فوری طورپر تصدیق نہیں ہوسکی۔ یادرہے کہ باجوڑ میں یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک قبائلی گرینڈ جرگے اور مقامی طالبان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔
|