’ایمرجنسی افواہیں، دبئی سفرملتوی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کی افواہوں کی وجہ سے بدھ کی شب دبئی جانے کا فیصلہ ملتوی کردیا۔ انہوں نے جنرل مشرف سے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے بارے میں آئینی درخواستوں کے متعلق سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے وہ اسے تسلیم کریں اور ان کے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے گریز کریں ورنہ عوام سڑکوں پر آجائیں گے۔ بینظیر بھٹوں نے یہ باتیں بلاول ہاؤس کراچی میں اپنی جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل کے اجلاس کے دوران بدھ کی شب صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم صدارتی انتخاب کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کررہی ہے اوران کی جماعت چاہتی ہے کہ سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے اسے حکومت تسلیم کرے خواہ وہ اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ ’اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایمرجنسی نافذ ہوئی تو ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے، قوم اس کو تسلیم نہیں کرے گی اور میں جانتی ہوں کہ باقی سیاسی پارٹیاں بھی اسے تسلیم نہیں کریں گی۔ عوام خود باہر نکلیں گے اور پیپلز پارٹی اس عوامی کاررواں کی قیادت کرے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے وسیع تر قومی مفاد میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جنرل مشرف سے مذاکرات کیے اور اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ جنرل مشرف کے خلاف آنے کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تو یہ ان کے بقول ان کے مزاکرات کے جذبے کی بھی خلاف ورزی ہوگی۔ ’جنرل مشرف نے اس سے پہلے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کیا تھا اور ان لوگوں کے مشورے کو نہیں مانا تھا جو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی بات کررہے تھے، ہمیں امید ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے معاملے پر بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ قوم کو جمہوریت کی ضرورت ہے اور پاکستان کو بحران سے نکالنے کے لئے پہلا قدم شفاف انتخابات کا انعقاد ہوگا۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ سپریم کورٹ نے اگر قومی مصالحتی آرڈیننس کے خلاف دیا تو ان کا ردعمل کیا ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق عبدالقدیر خان نے ایٹمی ٹیکنالوجی بیرون ملک منتقل کرنے کے جرم کا اقرار کیا تھا اور انہیں معافی دی گئی تھی تب سپریم کورٹ نے مداخلت نہیں کی تھی اسی طرح جب نواز شریف کو دو مقدمات میں سزا ملی اور اس میں انہیں معافی دی گئی تب بھی سپریم کورٹ نے مداخلت نہیں کی تھی۔ ان کے بقول قومی مصالحت آرڈیننس میں سزا یافتہ لوگوں کو معافی نہیں دی گئی بلکہ اس کے ذریعے انتقامی کارروائی اور ہارس ٹریڈنگ کو روکا گیا ہے اور اپوزیشن کے کردار کو تسلیم کیا گیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے بتایا کہ ان کی جماعت کی مجلس عاملہ اور وفاقی کونسل نے مشترکہ اجلاس میں اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کی تحقیقات کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے عدالتی تحقیقاتی ٹریبونل کے قیام کے اعلان کو مسترد کردیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات پاکستانی پولیس سے کرائی جائے لیکن تفتیش کار ان کے اعتماد کا ہو اور تحقیقات میں ایف بی آئی یا سکاٹ لینڈ یارڈ کا تعاون حاصل کیا جائے۔ ’اس لیے میرے کو نہیں لگتا کہ سپریم کورٹ اسے رد کرے گی۔ سپریم کورٹ بہتر جانتی ہے مگر سپریم کورٹ نے جب پہلے نہیں مداخلت کی جب بڑے بڑے معاملات تھے تو یہاں تو کوئی معاملہ ہی نہیں ہے۔ کسی مجرم کو نہیں چھوڑا گیا؟‘ انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھارہ اکتوبر کے بم حملے کا ازخود نوٹس لینے کا خیرمقدم بھی کیا۔ | اسی بارے میں ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان ’ایمرجنسی لگانے والا جنرل ضروری نہیں مشرف ہو‘04 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب دوبارہ ہو سکتا ہے29 October, 2007 | پاکستان قانونی سے سیاسی نظریہ ضرورت تک25 October, 2007 | پاکستان ’اہم فیصلے کیسے نظرانداز کریں‘25 October, 2007 | پاکستان ’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘23 October, 2007 | پاکستان ’مارشل لاء دفن کرنا آسان نہیں‘22 October, 2007 | پاکستان ’مفاہمتی آرڈیننس امتیازی ہے‘26 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||