BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 October, 2007, 07:06 GMT 12:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اہم فیصلے کیسے نظرانداز کریں‘

سپریم کورٹ بینچ
سپریم کورٹ کا گیارہ رکنی لارجر بینچ صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے
سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ صدر مشرف کی اہلیت کو چیلنج کرنے والی پٹیشنوں کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کیس پر ہونے والے فیصلوں کو کیسے نظرانداز کر سکتی ہے۔

یہ ریمارکس انہوں نے صدر جنرل مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ جب صدر مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے گئے تھے تو اس وقت سپریم کورٹ کے یہ دونوں فیصلے اپنی جگہ پر موجود تھے۔

صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ان فیصلوں کی بات نہیں کر رہے، بلکہ صدر کی اہلیت اور صدارتی انتخاب میں ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کوئی قرآنی صحیفے نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کے فیصلوں میں سقم موجود ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ دنیا میں کوئی فیصلہ ایسا نہیں ہوتا جو فریقین کو مطمئن کرسکے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی سقم موجود رہتا ہے اور اگر سپریم کورٹ کے ان فیصلوں میں بھی سقم ہوا تو اس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر بینچ میں شامل جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ قاضی حسین احمد کیس کے سلسلے میں تو نظرثانی کی کوئی اپیل بھی دائر نہیں کی گئی۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جب انیس سو تہتر میں آئین بنایا گیا تھا تو اس وقت بھی صدر کی اہلیت کے بارے میں سوال اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے واضح کیا تھا کہ صدرارتی امیدوار کی اہلیت کے لیے بھی آئین کی انہیں دفعات کا اطلاق ہوگا جو قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے لازمی ہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ جب ہم کسی مخصوص شخصیت کے لیے آئین کی تشریح کرنے لگتے ہیں تو ہم پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی بات مان لی جائے کہ صدر پر آئین کی دفعہ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اسے آئین کا حصہ کیوں بنایا گیا۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ان کی سمجھ کے مطابق سیکشن باسٹھ الیکشن سے پہلے کے معاملات سے متعلق ہے جبکہ سیکشن تریسٹھ الیکشن سے بعد کے معاملات کو ڈیل کرتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کی پٹیشن پر اُس بینچ میں شامل جسٹس فلک شیر کے اس بیان کی مکمل تائید کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا جنرل پرویز مشرف صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس پٹیشن کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ اکتالیس کی شق سات کے تحت جو کہ خصوصی طور پر جنرل پرویز مشرف کے متعلق ہے اس میں کہا گیا ہے کہ صدر کا انتخاب پانچ سال کے بعد ہوگا اس طرح جنرل پرویز مشرف کے عہدے کی معیاد پندرہ نومبر سنہ دو ہزار سات کو ختم ہورہی ہے۔ اس طرح صدارتی انتخابات قبل از وقت کیسے ہو سکتے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جو اسمبلیاں اپنی مدت مکمل کرنے جارہی ہیں وہ کیسے مستقبل کے صدر کا انتخاب کرسکتی ہیں۔انہوں نے کہا یہ اسمبلیاں صدر کا انتخاب کرنے کی اہل نہیں ہیں۔ جس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کے مؤکل نے الیکشن لڑا جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے یہ انتخاب بطور احتجاج لڑا۔

انہوں نے کہا کہ اگر اُن کے مؤکل الیکشن نہ لڑتے تو جب وہ داد رسی کے لیے عدالت کا رخ کرتے تو عدالت یہ کہہ سکتی تھی کہ چونکہ وہ اُمیدوار نہیں ہیں اس لیے وہ دوسرے صدارتی امیدوار جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کا آئندہ انتخاب اُس وقت ہوگا جب سترہویں ترمیم کے اثرات ختم ہوچکے ہوں گے اور یہ اثرات پندرہ نومبر کے بعد ختم ہوجائیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک میں عبوری دور ختم ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں نے صدر کو اعتماد کا ووٹ دیا ہے اور صدر کا الیکشن نہیں ہوا۔

بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ یہ حسن اتفاق ہے کہ صدر اور قومی اسمبلیوں کی معیاد ایک ساتھ ختم ہو رہی ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے استفسار کیا کہ کیا یہ ارکان اسمبلی کی ذمہ داری نہیں کہ وہ کہیں کہ ہماری مدت تو ختم ہو رہی ہے اس لیے ہم صدر کو ووٹ نہیں دیتے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ووٹ نہیں دیا۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ہم میرٹ پر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ انقلاب کا راستہ روکا جا سکے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک آئینی عہدہ ہے کوئی انقلابی پوسٹ نہیں ہے۔’

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف پر آئین کی دفعہ تریسٹھ ون کے کا بھی اطلاق ہوتا ہے جوکہ یہ بتاتی ہے کہ کوئی سرکاری ملازم اپنی ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک کسی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا۔
اعتزاز احسن کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد