’نااہلیت کی شرط مشرف پر بھی لاگو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قانون دان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ صدر کے انتخاب کے لیے بھی اُمیدوار کو انہی شرائط پر پورا اترنا ہوگا جو رکنِ پارلیمنٹ کے انتخاب پر لاگو ہوتی ہیں۔ انہوں نے یہ دلائل صدر کی اہلیت کے بارے میں صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن پر گیارہ رکنی بینچ کے سامنے دیئے۔ انہوں نے کہا کہ مارچ دو ہزار تین میں جب سینٹ کے ارکان نے حلف اُٹھایا تھا تو اس کے بعد آئین کی دفعہ تریسٹھ جو نااہلیت کے زمرے میں آتی ہے اس کو بحال کردیا گیا تھا اوراس طرح آئین کی یہ دفعہ جنرل پرویز مشرف پر لاگو ہوتی ہے اور وہ صدارتی امیدوار ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ آئین کی دفعہ باسٹھ اور تریسٹھ کا اطلاق ارکان پارلیمنٹ اور صدر دونوں پر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص جو دوہری شہریت رکھتا ہو، نادہندہ ہو یا سزا یافتہ ہو یا پاگل ہو وہ قومی اسمبلی کا رکن نہیں بن سکتا تو وہ صدر کیسے بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی ان دفعات کا اطلاق امیدوار پر اُسی وقت ہوجاتا ہے جب وہ کاغذات نامزدگی داخل کرواتا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ آئین کی دفعہ تریسٹھ کا اطلاق صدر پر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بات مان لی جائے تو پھر ایک سزا یافتہ اور مالی بدعنوانیوں میں ملوث شخص بھی صدر بن سکتا ہے۔ اس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے اعتزاز احسن سے استفسار کیا کہ کیا قومی مفاہمتی آرڈینینس کا اطلاق آئین کی دفعہ تریسٹھ پر ہوتا ہے جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ اس آرڈیننس کا اطلاق ان افراد پر ہوتا ہے جسے عدالت نے سزا نہ دی ہو۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد سترہویں ترمیم کے تحت جنرل پرویز مشرف کو ایک خاص مدت کے لیے رعایت دی تھی کہ وہ دو عہدے رکھ سکتے ہیں لیکن اس بات کی اجازت نہیں دی گئی تھی کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر کے دوسرے عہدے کی میعاد سولہ نومبر دو ہزار دو سے شروع ہوئی تھی جو پندرہ نومبر سنہ دو ہزار سات کو ختم ہو رہی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایک شخص دو مرتبہ صدر کے عہدے پر فائز رہ سکتا ہے اس پر بینچ میں شامل جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ جب صدر کا پہلا الیکشن ہوا تھا تو اُس وقت آئین معطل تھا جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر کوئی ماورائے آئین نہیں ہوتا بلکہ وہ آئین کے تابع ہوتا ہے اور انہوں نے آئین کے تحت دو مرتبہ عہدہ صدارت کا حلف اُٹھایا ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ملک میں جولائی سنہ انیس سو ستتر سے لیکر سنہ انیس سو پچاسی تا اور اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے سے لیکر جیسی بھی ہنگامی صورتحال آئی تو ملک آئین کے مطابق ہی چلتا رہا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ججوں نے بھی پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا لیکن وہ بھی ماورائے آئین نہیں ہیں جس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ہمیں اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’ ہم جج ہیں بہروپیے نہیں‘۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نےصدارتی انتخابات کے لیے جب کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے تو اس وقت آرمی چیف کا عہدہ بھی ان کے پاس تھا اس طرح ایک سرکاری ملازم اور بلاخصوص ایک فوجی افسر ملازمت کے دوران الیکشن میں کیسے حصہ لے سکتا ہے ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔ | اسی بارے میں ’مارشل لاء دفن کرنا آسان نہیں‘22 October, 2007 | پاکستان ’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘23 October, 2007 | پاکستان غیر سرکاری نتائج، مشرف کامیاب06 October, 2007 | پاکستان غیر سرکاری نتائج، پانچ سال اور؟06 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||