غیر سرکاری نتائج، مشرف کامیاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صدراتی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے صدارتی انتخاب میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ سندھ اسمبلی کے سوا تمام اسمبلیوں سے غیر سرکاری نتائج آ چکے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق اس انتخاب میں 257 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے جنرل مشرف کو 252 اور جسٹس (ر) وجیہہ کو 2 ووٹ ملے جبکہ تین ووٹ مسترد کر دیے گئے۔ پنجاب، بلوچستان اور سرحد اسمبلی میں بھی ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پنجاب اسمبلی میں کل ڈالے گئے دو سو ستاون میں سے دو سو ترپن ووٹ جنرل مشرف کے حق میں، تین جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے حق میں ڈالے گئے ہیں جبکہ ایک ووٹ مسترد کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں ڈالے گئے تمام تینتیس ووٹ جنرل پرویز مشرف کے حق میں ہیں جبکہ سرحد اسمبلی میں ڈالے گئے چونتیس ووٹوں میں سے اکتیس جنرل پرویز مشرف کے حق جبکہ ایک جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے حق میں ہے۔دو ووٹ مسترد کر دیے گئے ہیں۔ اس سے قبل پولنگ کے دوران سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان نے اسلام آباد جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان متعلقہ صوبائی دارالحکومتوں میں خفیہ بیلٹ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ پولنگ پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس بجے سے لیکر سہ پہر تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے ریٹرنگ آفیسر جبکہ چاروں صوبائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے پریذائیڈنگ آفیسر کے فرائض سرانجام دیے۔ اس الیکشن کے نتائج کا باقاعدہ نوٹیفیکشن سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق جنرل مشرف کی صدارتی امیدوار بننے کی اہلیت کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔ بی بی سی اردو کےنمائندے اعجاز مہر کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہونے سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی یہ کہہ کر اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا کہ صدر مشرف وردی میں انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے وہ اس عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن جمہوری عمل کا حصہ ہے اور جمہوریت اور وردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ قومی اسمبلی میں وزیرِاعظم شوکت عزیز سمیت دو سو ستاون ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان میں ایک سو ننانوے ارکان قومی اسمبلی اور اٹھاون سینیٹ کے ارکان شامل ہیں۔ حکومت کا دعوٰی ہے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے بھی بعض ارکان نے جنرل پرویز مشرف کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اے این پی کے منحرف رکن قومی اسمبلی شہاب الدین جب اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے اٹھے تو اراکین نے ڈیسک بجا کر انہیں داد دی۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے ناراض ارکان اسمبلی نے بھی صدارتی انتخاب میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ مستعفی وزیر مملکت اسحق خاکوانی، فاروق اعظم ملک اور ریاض پیر زادہ نے صدر مشرف کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم یہ تمام ارکان آج ایوان میں آئے اور اپنا ووٹ کا حق استعمال کیا۔ اس کے علاوہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے جے یو آئی کے رکن، محمد نور الحق قادری نے بھی اسمبلی ہال میں آ کر صدارتی انتخاب میں حصہ لیا۔ فاٹا سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے اس رکن قومی اسمبلی نے ایک روز پہلے ہی قبائلی علاقوں سے فوج کی واپیس اور ترقیاتی کام نہ ہونے پر صدارتی الیکشن میں اپنا ووٹ استعمال نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لاہور اس سے قبل پنجاب اسمبلی کا اجلاس کے شروع ہوتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اجلاس کا بائیکاٹ کر کے باہر چلے گئے تاہم انہوں نے اس مرتبہ’گو مشرف گو‘ کے نعرے نہیں لگائے۔ جسٹس وجیہہ الدین کی پولنگ ایجنٹ کو بھی پنجاب اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
پولنگ کے موقع پر اسمبلی کے اطراف سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور اسمبلی کے علاوہ لاہور کے دوسرے علاقوں مال روڈ اور پولیس اور حفاظتی دستے تعینات کر دیے گئے۔ پولنگ کے بعد بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے حکمران مسلم لیگ کے پارلیمانی سیکرٹری ملک محمد احمد کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں ان کے 260 ارکان ہیں جن میں سے 257 ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر لیا ہے۔ پشاور کراچی سندھ اسمبلی میں کل 168 اراکین میں سے ایک نشست خالی ہونے کی وجہ سے باقی تعداد 167 ہے۔ ایم ایم اے کے سات اراکین کے مستعفی ہو چکے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں حکومت اور حلیف جماعتوں کے اراکین کی کل تعداد 103 تھی ایک ووٹ زائد ہونے کی وجہ مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے رکن اسمبلی یونس خان کا ووٹ تھا۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں بھی پولنگ کا بائیکاٹ کیا اور پی پی پی سے تعلق رکھنے والے اراکینِ صوبائی اسمبلی ایوان سے باہر چلے گئے۔ جسٹس وجیہہ الدین احمد کی پولنگ ایجنٹ نور ناز آغا ایڈووکیٹ نے پریذائیڈنگ آفیسر جسٹس صبیح الدین احمد کو ایک درخواست دی جس میں انہوں نے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی نہ کرنے کی استدعا کی تاہم نور ناز آغا کے مطابق پریذائیڈنگ آفیسر نے ان کی درخواست مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کرکے وہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیں گے جو نتائج جاری کرنے کا مجاز ہے۔ بی بی سی کے ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں ہر طرف پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہائی کورٹ کے داخلی دروازے کے پاس پولیس کی سات آٹھ موبائل موجود ہیں اور ہائی کورٹ کی طرف جانے والے راستوں پر ناکے لگائے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے دفتر کے اردگرد بھی رینجرز کی گاڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ کوئٹہ
مجلس عمل سے منحرف ہونے والے دو جبکہ جمہوری وطن پارٹی سے منحرف ہونے والے چار اراکین نے اپنے ووٹ ڈال دیے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکانِ اسمبلی محمد اسلم رئیسانی اور شفیق احمد خان بھی اسمبلی آئے لیکن انہوں نے صدارتی الیکشن سے اظہار لاتعلقی کیا اور وہاں سے چلے گئے۔ کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کی طرف آنے والے سب راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور شہر میں سکیورٹی انتظامات کافی سخت ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل سیاسی اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سو چونسٹھ اراکان قومی و صوبائی اسمبلی نے دو اکتوبر کو احتجاجاً استعفے دے دیے تھے جبکہ صوبہ سرحد میں مزید چھتیس اراکان صوبائی اسمبلی پانچ اکتوبر کو مستعفی ہوگئے تھے۔ان استعفوں کا مقصد حزب اختلاف کے مطابق جنرل مشرف کے وردی میں دوبارہ صدر منتخب کے خلاف احتجاج کرنا ہے جبکہ جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ گیارہ سو سے زائد اراکان پر مشتمل الیکٹورل کالج میں سے سو دو سو کے استعفوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ |
اسی بارے میں صدارتی الیکشن پولنگ، فیصلہ بعد میں06 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||