BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سولہ کروڑ عوام ہمارے ساتھ:وجیہہ

جسٹس (ر) وجیہہ الدین
جج پر تنقید ہی جج کا احتساب ہے: جسٹس (ر) وجیہہ الدین
صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ سولہ کروڑ عوام ہمارے ساتھ ہیں لیکن اس کے باوجود صدارتی انتخاب میں حکمرانوں نے مختلف ہتھکنڈوں سے ہمارے ناموں کے آگے شکست لکھ دی ہے جو عارضی ہے‘۔

یہ بات انہوں نے لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب کی دوران کہی۔

اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پاکستان بار کونسل کے ارکان اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب غیر قانونی ہے اور ہائیکورٹ بار کے وکلاء کنونشن کا فیصلہ ہے کہ وکلاء کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد نہیں کرنا چاہیے۔

جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد کے خطاب کے دوران وکلاء نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ جسٹس(ر) وجیہہ الدین نے اپنے نصف گھنٹے کے خطاب میں کہا کہ’اگر اپنی معیاد پوری کرنے والی اسمبلیاں ہی کسی کو مزید پانچ برس کے لیے دوبارہ صدر منتخب کرلیں تو اس کے نتائج یہ ہوں گے کہ ایوانِ صدر میں بیٹھےصدر مملکت عام انتخابات میں دھاندلی کرا کے دوبارہ ربڑ سٹمپ اسمبلی وجود میں لائیں گے‘۔

 جج پر تنقید جج کا احتساب ہے اگر اس کی اجازت نہیں دیں گے تو اپنے احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔ججوں کے فیصلوں پر نکتہ چینی کرنا وکلاء برادری کا حق ہے۔

انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صدارتی انتخاب میں خفیہ رائے شماری کے دوران ووٹ کا تقدس پامال نہ ہونے پائے۔

انہوں نے صدر پرویز مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ’وہ ہر معاملے میں’فرسٹ‘ ہونے کے بڑے خواہش مند ہیں۔ جب کتاب لکھی تو اس میں بھی کہا گیا کہ سب سے پہلے پاکستان حالانکہ ان کے اصول کے تحت سب سے پہلے’پرویز‘ ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے خلاف توہین عدالت کرنے کی بات کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ میں عدالت میں پیش ہو کر معافی مانگوں۔’عدالت کی عزت ہمارا فرض ہے ہم اس سے کبھی دستبردار نہیں ہونگے۔ہم وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو جسٹس افتخار محمد چودھری کے کیس میں کہا گیا تھا۔ یہ ہمارا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ قوم کا معاملہ ہے‘۔

انہوں نے ہاؤس آف لارڈز کا حوالہ دیا اور کہا’جج پر تنقید جج کا احتساب ہے اگر اس کی اجازت نہیں دیں گے تو اپنے احتساب سے بھاگ رہے ہیں۔ججوں کے فیصلوں پر نکتہ چینی کرنا وکلا برادری کا حق ہے‘۔

وجیہہ الدین نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے الیکٹورل کالج کے ارکان یہ جانتے ہیں کہ ان کے انتخابی حلقوں میں عوام کے کیا رجحانات ہیں۔ان کے بقول الیکٹورل کالج کے ارکان نے اپنے ضمیر کی آواز سن لیں تو ابھی صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’اگر نئی اسمبلیوں کے تحت صدارتی انتخاب ہوں تو ہم جیت جائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’میڈیا میں تو ہمیں بلیک آؤٹ کیا جاسکتا ہے لیکن عوام کے دلوں سے نہیں‘۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے کہا کہ’فیصلہ کچھ بھی آئے ہماری جدوجہد کسی نہ کسی صورت میں اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں حمہوریت نہیں آ جاتی‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد