BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تنقید کرنا ہر شہری کا حق ہے: وجیہہ

جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین نے
وجیہہ الدین نے چیف الیکشن کمشنر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا
صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ عدالتوں کے سنائے گئے فیصلے عوامی ملکیت کے زمرے میں آتے ہیں جس پر مثبت تنقید یا اپنی رائے کا اظہار کرنا ہر شہری کا حق ہے۔

یہ بات انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں وکلاء کے ایک اجتماع سے اپنے خطاب کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس اظہار برہمی کے جواب میں کہی جس میں دس رکنی لارجر بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا کہ راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں جسٹس وجیہہ الدین نے بینچ کی تشکیل سے متعلق جو ریمارکس دیے ہیں وہ انتہائی ہتک آمیز ہیں ۔

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے جمعرات کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی جانب سےان کے وکیل حامد خان سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ان کے ریمارکس توہین کے زمرے میں نہیں آتے کہا کہ ’میں کون ہوں کہ کسی کو سرٹیفکیٹ دوں اور نہ ہی مجھے ایسا کوئی حق حاصل ہے تاہم اگر اعلٰی یا ماتحت عدالت کسی بھی معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے تو اس پر مثبت تنقید یا اس سلسلے میں انصاف کو یقینی بنانے کے حوالے سے کسی بھی پہلو کی نشاندہی کرنے کا حق نہ صرف مجھے بلکہ ہر پاکستانی شہری کو حاصل ہے‘۔

مثبت تنقید
 ’میں کون ہوں کہ کسی کو سرٹیفکیٹ دوں اور نہ ہی مجھے ایسا کوئی حق حاصل ہے تاہم اگر اعلٰی یا ماتحت عدالت کسی بھی معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ صادر کرتی ہے تو اس پر مثبت تنقید یا اس سلسلے میں انصاف کو یقینی بنانے کے حوالے سے کسی بھی پہلو کی نشاندہی کرنے کا حق نہ صرف مجھے بلکہ ہر پاکستانی شہری کو حاصل ہے‘۔
جسٹس وجیہہ الدین

انہوں نے اپنے خطاب کے دوران چیف الیکشن کمشنر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے موقع پر قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ رائے شماری کے حوالے سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہاں پر خفیہ کیمرے نصب نہ ہوں اور نہ ہی کسی کو یہ اجازت حاصل ہو کہ وہ اسمبلیوں کے احاطے میں اپنے ساتھ موبائل فون رکھ سکیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابات کے حوالے سے تمام اختیارت فرد واحد چیف الیکشن کمشنر کو اس لیے تفویض کیے گئے ہیں کیونکہ ایک شخص کو باآسانی اپنی صف میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دس ستمبر کو چیف الیکشن کمیشن نے’رات کے اندھیرے، میں آئین میں درج صدر کی نااہلی سے متعلق دفعہ تریسٹھ کو معطل کر کے ایک غیر آئینی اقدام کیا‘۔

ان کے مطابق’ آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت لازمی ہے جبکہ قواعد و ضوابط میں ترمیم کے لیے پہلے نوٹیفیکیشن کا جاری ہوناضروری ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر نے رات کی تاریکی میں آئین میں ترمیم کرتے ہوئے صدارتی انتخابات سے متعلق دفعہ تریسٹھ کو معطل کردیا جبکہ اس سلسلے میں عوام کوصرف وفاقی وزیر شیرافگن نیازی کی مبارک زبان سے معلوم ہوسکا‘۔

جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدین کی تقریر زیادہ تر صدارتی انتخابات کے آئینی پہلؤوں کےگرد گھومتی رہی تاہم آخر میں انہوں صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں بڑھتی ہوئی طالبانائزیشن اور ایک فلاحی ریاست کے خدوخال پر روشنی بھی ڈالی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی طالبان کو جنرل پرویز مشرف کا تعاون حاصل ہے جنہوں نےصوبہ سرحد کو طالبان اور عام شہریوں کے درمیان واضح طور پر تقسیم کردیا ہے۔

اس سے قبل جب جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین پشاور ہائی کورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے تو صوبہ سرحد کے کئی اضلاع سے آئے ہوئے وکلاء نے انکا استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔تاہم وکلاء میں وہ جو ش وخروش نہیں تھا جو اکیس اپریل کو چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے خلاف وکلاء کی احتجاجی تحریک کے دوران ان کے پشاور آمد کےموقع پر دیکھنے میں آیا تھا۔

جسٹس ریٹائرڈ وجہہ الدین نے کہا کہ وہ چالیس سال کے بعد پشاور آئے ہیں مگر اس شہر میں اب وہ خوشبو اور تازگی نہیں رہی جو چالیس سال پہلے انہوں نے یہاں آکر محسوس کی تھی۔وہ اپنی تقریر کے دوران صوبہ سرحد کو پختونخوا کہتے رہے جس پر وکلاء نے زور دار تالیاں بجائیں۔

تقریب سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالطیف آفریدی اور علی احمد کرد نے بھی خطاب کیا۔

جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمدامیدوار کا عزم
اس کاز میں ہم ضرور جیتیں گے: وجیہ الدین
اسی بارے میں
پاکستانی اخبارات کی سرخیاں
03 October, 2007 | پاکستان
چھ امیدواروں کے کاغذات منظور
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد