BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 11:20 GMT 16:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھ امیدواروں کے کاغذات منظور

کاعذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر وکلاء کا احتجاج
چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے سنیچر کو جنرل پرویز مشرف، مخدوم امین فہیم اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین سمیت چھ امیدواروں کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ دیگر امیدواروں میں چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو، سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین اور نوابشاہ کی ضلعی ناظمہ فریال تالپور شامل ہیں۔

جانچ پڑتال کے دوران مخدوم امین فہیم، جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور فریال تالپور کے وکلاء لطیف کھوسہ، بابر اعوان، فاروق نائک اور حامد خان نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف متعدد اعتراضات اٹھائے اور چیف الیکشن کمشنر سے ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کی استدعا کی۔

چیف الیکشن کمشنر نے ان کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات درست قرار دیے۔

لطیف کھوسہ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی نا اہلی کے حوالے سے دلائل کے دوران کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے فوجی عہدہ چھوڑنے کا ٹی وی پر قوم سے وعدہ کیا تھا اور اس پر عمل نہیں کیا۔ ان کے مطابق یہ بہت بڑا جھوٹ بولا تھا اور آئین کے مطابق جھوٹ بولنے والا ایماندار نہیں ہوسکتا اس لیے وہ نا اہل ہیں۔

بابر اعوان نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی گریجوئیشن کی سند نہیں ہے اور انہوں نے اثاثوں کے گوشوارے بھی جمع نہیں کرائے۔ ان کے مطابق عوامی نمائندگاں ایکٹ اور الیکشن آرڈر سن دو ہزار دو کے مطابق گوشوارے جمع نہ کرانے والا شخص نا اہل ہوجاتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے اس موقع پر اس بات کی تصدیق کی کہ جنرل پرویز مشرف نے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے گریجوئیشن اور ماسٹرز کی اسناد کی فوٹو کاپیاں فراہم کی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے انیس بیاسی میں بلوچستان یونیورسٹی سے گریجوئیشن کیا ہے۔ جبکہ انیس سو بانوے میں قائد اعظم یونیورسٹی سے ’وار سٹڈیز‘ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

جس پر بابر اعوان کے مطابق انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے کہا کہ یہ اسناد ’سیریمونیل‘ ہیں اور ’ٹیسٹیمونیل‘ نہیں ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کے سامنے صدر جنرل پرویز مشرف کے وکلاء وسیم سجاد اور خالد رانجھا نے مخدوم امین فہیم، فریال تالپور اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین کے کاغذات نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

جانچ پڑتال کے دوران الیکشن کمیشن کے باہر وکلاء نے احتجاج کیا جس پر پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے انسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس دوران کئی صحافی بھی متاثر ہوئے اور جب صحافیوں نے احتجاج کیا تو پولیس اور صحافیوں میں گرما گرمی ہوئی۔

وکلاء اور صحافیوں پر پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور وکیلوں کے امیدوار سمیت مختلف امیدواروں کے وکلاء اور صحافیوں نے الیکشن کمیشن کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

پیپلز پارٹی کے وکلاء نے چیف الیکشن کمشنر سے استدعا کی کہ وہ پولیس کو تشدد سے روکیں اور وزیراعظم شوکت عزیز جو کمیشن کی کارروائی میں موجود ہیں انہیں سے کہیں کہ حکم جاری کریں۔

چیف الیکشن کمشنر نے جب کوئی حکم جاری نہیں کیا تو پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

بابر اعوان، لطیف کھوسہ اور فاروق نائیک نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی نااہلی کے متعلق اپنے دلائل دیے لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ وکلاء اور صحافیوں پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا تو انہوں نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے باہر صحافیوں کے احتجاج کی وجہ سے وزیراعظم شوکت عزیز الیکشن کمیشن سے باہر نہیں آسکے اور ایک لحاظ سے محصور ہوکر رہ گئے۔

وزیر اعظم نے ایک مرتبہ نکلنے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی حکام کی سفارش پر وہ واپس چلے گئے اور ایک گھنٹے تک خواہش کے باوجود بھی باہر نہیں جا پائے۔

بعد میں سفید شلوار قمیض پہنے ہوئے سیکورٹی اہلکاروں نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بناکر راستہ بنایا تو انہیں باہر نکالا گیا۔ اس دوران صحافیوں نے ’شیم شیم‘ کے نعرے لگائے۔

قبل ازیں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ پہلی بار سفید شلوار قمیض والی فورس سامنے آئی۔

کمرہ سماعت میں صحافیوں کو تو کیمرے، موبائل فون اور دیگر آلات لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی لیکن حکومت کے نمائندوں، وزیروں، مشیروں اور اراکین اسمبلی کو موبائل فون کا استعمال کرتے رہے۔

کمرہ سماعت میں ایک موقع پر جب وزیراعظم شوکت عزیز اور چودھری شجاعت حسین داخل ہوئے اور چیف الیکشن کمشنر کی دائیں جانب خصوصی طور پر رکھی گئی کرسیوں پر بیٹھے تو پیپلز پارٹی کے وکیل بابر اعوان نے اعتراض کیا کہ عدالت میں انہیں خصوصی پروٹوکول کیوں دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
وکلاء تحریک نہیں رکے گی: کرد
29 September, 2007 | پاکستان
وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد