BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 11:11 GMT 16:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ

وکلاء مظاہرہ
مظاہرہ کرنے والے کئی وکلاء کو گرفتار بھی کیا گیا ہے
صدر مشرف کے دو عہدوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور اسلام آباد میں وکلاء اور صحافیوں پر تشدد کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ پولیس نے اسلام آباد کی طرح ملک کے باقی حصوں میں بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیا ہے۔

کراچی میں سندھ ہائیکورٹ اور سٹی کورٹس کا بائیکاٹ کیا گیا۔ سٹی کورٹس میں وکلاء نے ایک اجلاس کے ذریعے صدر مشرف کے وردی سمیت صدارتی انتخاب لڑنے پر پابندی نہ لگانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اجلاس کے بعد وکلاء جیسے ہی جلوس کی شکل میں سڑک پر آئے تو پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیں روک دیا، وکلاء نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔

وکلاء نے جواب میں پتھراؤ کیا تو پولیس ان کا تعاقب کرتے ہوئے بار روم اور عدالتی احاطوں تک پہنچ گئی اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس دوران پولیس نے چار وکلاء کو گرفتار بھی کیا۔

کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ وکلاء کے پرامن جلوس پر پولیس نے شیلنگ کی ہے۔ ’ہم نے سنا تھا کہ لوگ پولیس پر پتھراؤ کرتے ہیں، مگر آج تو پولیس نے لوگوں پر پتھراؤ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں شیلنگ کر کے توہین عدالت کی گئی ہے۔ انہوں نےسیشن کورٹ سے درخواست کی کہ پولیس پر توہین عدالت کا مقدمہ درج کروایا جائے۔ کراچی بار کے صدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور کراچی میں پولیس تشدد کے خلاف پیر کو جنرل باڈی کے اجلاس کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، پولیس نے سات سے زائد افراد کوگرفتار کرنے کے بعد منشتر کر دیا۔

پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا

لاہور میں صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر یوم سیاہ منایا اوراحتجاجی مظاہرے کیے۔

وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ ان کے تنظیمی دفاتر پر سیاہ پرچم لہراتے رہے۔ اسلام آباد میں وکلاء پر پولیس تشدد کی اطلاع ملتے ہی لاہور کے وکلاء مشتعل ہوگئے اوراحتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے۔

مظاہرین نعرے لگا رہے تھے ’گو مشرف گو، آئین کی بحالی تک جنگ رہے گی جنگ اور مک گیا تیرا شو مشرف گو مشرف گو۔‘

لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ کی قیادت میں وکلاء جلوس کی شکل میں ایوان عدل سے باہر آئے اور پی ایم جی چوک میں دھرنا دیا۔

رہنماؤں کے خطاب کے بعد وکلاء کا جلوس الیکشن کمیشن کے صوبائی دفتر کی عمارت کے باہر پہنچ گیا۔

وکلاء کی طرف سے الیکشن کمیشن کی عمارت کے گھیراؤ کی کوشش پر وہاں تعینات پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی، تاہم وکلاء نے الیکشن کمیشن کی عمارت کے باہر احتجاج کیا اور دھرنا کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ارکان نے جی پی او چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور وکلاء یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہاتھوں کی زنجیر بنائی۔

پاکستان بارکونسل کے سابق وائس چیئرمین حافظ عبدالرحٰمن نے اس موقع پر خطاب میں کہا کہ وکلاء برادری سپریم کورٹ کے تین ججوں جسٹس بھگوان داس، جسٹس سردار رضا اور جسٹس شاکر اللہ جان کو سیلوٹ پیش کرتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ بار کی نائب صدر فردوس بٹ اور سیکرٹری سرفراز چیمہ نے اعلان کیا کہ یکم اکتوبر کو ہائی کورٹ کے وکلاء ساڑھے دس بجے کے بعد ہڑتال کریں گے اور مال روڈ پر احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔

صوبہ سرحد کے وکلاء نے بھی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں کے خلاف آئینی درخواستوں کو مسترد کیے جانےکے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی موجودگی میں ایسا فیصلہ آنا قابل افسوس ہے۔

زیادہ تر پولیس والے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے

اس موقع پر پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی اور ممتاز قانون دانوں محمد صمد خان، قیصر رشید اور مسعود کوثر نے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ کے فیصلے پر تنقید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ایک ایسے بینچ کو تشکیل دیا تھا جس میں شامل بعض ججوں پر اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران وہ خود بھی عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں کہ انہیں ان سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔

اجلاس میں وکلاء نے متعدد قراردادیں بھی منظور کیں، جن میں وکلاء پر تشدد کی مذمت، وزیرِ اعلیٰ سرحد سے اسمبلی تحلیل کرنے اور سیاستدانوں سے ان کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد وکلاء نے ہائی کورٹ کی عمارت سے صوبائی اسمبلی تک احتجاجی مظاہرہ کیا اور جنرل مشرف کے خلاف اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس موقع پر وکلاء نے صوبے بھر میں ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر صوبہ بلوچستان میں وکیلوں نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے اور کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

یہ احتجاج صدر کے دو عہدوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے اور آج کاغذات کی جانچ پڑتال کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ وکیلوں نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر یوم سیاہ منایا اور ضلع کچہری سے احتجاجی ریلی نکالی گئی جو منان چوک، کندھاری بازار، میزان چوک اور جناح روڈ سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب پہنچی جہاں قائدین نے خطاب کیا ہے۔

بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ ریلی کی قیادت کر رہے تھے۔

جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
احمد رضا قصوریچہرے پر سیاہ سپرے
احمد رضا قصوری کے خلاف’احتجاج‘
ریمارکس کتنے اہم
ججوں کے ریمارکس کی اہمیت سب سے زیادہ
معنی خیز تبدیلیاں
پاکستان فوج کے چھ جرنیلوں کی ترقی
صدارتی الیکشن
اپوزیشن کی حکمت عملی اور الیکٹورل کالج
جسٹس افتخار چودھریوکلاء کی مشکل
مبینہ ڈیل کی خبریں پی پی کے وکلاء کا امتحان
اسی بارے میں
وکلاء تحریک نہیں رکے گی: کرد
29 September, 2007 | پاکستان
ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل
29 September, 2007 | پاکستان
فیصلہ صدر جنرل مشرف کے حق میں
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد