BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 08:08 GMT 13:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ: عدالت کے باہر کے مناظر

وکلاء (فائل فوٹو)
درجن وکلاء سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر کھڑے وقتاً فوقتاً نعرے لگا رہے تھے
سپریم کورٹ کی بلڈنگ کے سامنے لگ بھگ ایک درجن ٹی وی کیمرے صبح ہی سے نصب ہو گئے تھے اور ان کیمروں کے علاوہ تقریباً اتنے ہی کیمرے تھوڑے فاصلے پر نصب تھے تا کہ عدالت عظمٰی کے نو رکنی بنچ کے فیصلے کو براہ راست عوام تک پہنچا سکیں۔

جمعہ کی نماز کے وقفے ہی سے ملکی اور غیر ملکی صحافی سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں دوبارہ جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ سپریم کورٹ میں ایم ایم اے، پاکستان تحریک انصاف اور وکلاء فورم نے پٹیشن دائر کی تھیں لیکن وکلاء اور سیاسی کارکن بہت ہی کم تعداد میں موجود تھے۔ بڑے دریا دل اندازے کے مطابق بھی تقریباً دو درجن کے قریب سیاسی کارکن موجود ہوں گے جنھوں نے متحدہ مجلس عمل کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔

یہ گنے چنے کارکن بے مقصد ادھر ادھر پھرتے نظر آئے۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے کل کے از خود نوٹس کے حکم پر تمام راستے کھول دیے گئے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو حرکت میں لانے میں ناکام رہیں۔

اسی طرح لگ بھگ درجن وکلاء سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر کھڑے وقتاً فوقتاً نعرے لگا رہے تھے۔

پولیس کی بھاری نفری سپریم کورٹ کے احاطے اور باہر موجود تھی لیکن عدالت عظمٰی کے اندر داخل ہونے والوں کی تلاشی نہیں لے رہے تھے۔ پولیس کے ایک اہلکار نے کہا کہ وہ پندرہ سال سے اسلام آباد پولیس کے ساتھ ہے لیکن وفاقی دارالخلافہ میں اتنی بڑی تعداد میں پولیس کی تعیناتی شاذونادر ہی دیکھی ہے۔ تاہم فوراً ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور وہ وہاں سے چل پڑا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ جو کہ سوا دو بجے متوقع تھا تقریباً پونے چار بجے آیا۔ سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر دھکم پیل شروع ہوئی اور قاضی حسین احمد کے وکیل اکرم شیخ کے فیصلہ سناتے ہی نعروں کی گونج میں پانچ چھ جذباتی وکلاء کے دو ٹولے سیڑھیوں سے نیچے اترے اور گیٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔

ایم ایم اے کے قائد حافظ حُسین احمد مایوس نظر آ رہے تھے اور سیدھے ایک نجی ٹی وی کے کیمرے کے سامنے گئے۔ ایم ایم اے کے ایک اور قائد فرید پراچہ بھی مایوس نظر آئے اور چند کارکنوں کے ہمراہ گیٹ کی طرف روانہ ہوئے جہاں انہوں نے گاڑی کی چھت سے تقریر کی۔

گیٹ کے باہر وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے پھر نعرہ بازی کی اور اس کے ساتھ ایک جنازہ اٹھایا جس پر نظریہ ضرورت لکھا تھا۔ لیکن مظاہرین نے اس کو سپریم کورٹ کا جنازہ کہ کر اٹھایا۔ تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے نعرہ بازی زیادہ دیر نہ کر سکے اور منتشر ہو گئے۔

وکلاء اور سیاسی کارکن کے منتشر ہونے کے کچھ ہی دیر بعد پارلیمنٹ کے سامنے سے دو درجن لوگ صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں نعرے لگاتے سپریم کورٹ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

اسی بارے میں
فیصلہ صدر جنرل مشرف کے حق میں
28 September, 2007 | پاکستان
’یہ میرا پاکستان ہے‘
28 September, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد