BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 September, 2007, 12:08 GMT 17:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصلے پر مایوسی، جدوجہد کا عزم

وکلاء
الیکشن کمیشن سے جانچ پڑتال کے موقع پر ذرائع ابلاغ کی موجودگی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے
سپریم کورٹ کےجمعہ کے فیصلے سے وکلاء کی بڑی تعداد نے مایوسی کا اظہار کیا ہے تاہم ان کی امیدیں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہیں۔

اب ان کی توجہ سنیچر پر مرکوز ہے جب الیکشن کمیشن میں صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی جہاں وہ اعتراضات کے علاوہ احتجاج کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے بعد وکلاء تحریک کے شعلہ بیاں رہنما علی احمد کرد نے اعلان کیا کہ الیکشن کمیشن کے باہر دما دم مست قلندر ہوگا۔

وکلاء کے صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائر) وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سوموار کو نظر ثانی کی اپیل دائر کی جائے گی۔

وکلاء کی تنظیم قومی ایکشن کمیٹی نے سنیچر کو اسلام آباد سمیت ملک بھر میں صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر بھرپور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

احتجاج کریں
 سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منیر اے ملک نے وکلاء، سیاسی کارکن اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تو یہاں پہنچیں ورنہ جہاں جہاں ہیں وہیں احتجاج کریں

اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے منیر اے ملک نے وکلاء، سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگر اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تو یہاں پہنچیں ورنہ جہاں جہاں ہیں وہیں احتجاج کریں۔

جانچ پڑتال کے موقع پر وکلاء جسٹس وجیہہ الدین کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف تحریری اعتراضات الیکشن کمیشن میں پیش کریں گے۔ یہ اعتراضات جسٹس وجہیہ الدین کے تین نمائندے حامد خان، طارق محمود اور اشتر اوصاف علی دائر کریں گے۔

منیر اے ملک نے ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن سے جانچ پڑتال کے موقع پر تمام ذرائع ابلاغ کی موجودگی کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جمعہ کو الیکشن کمیشن سے صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات دیکھنے کی درخواست کی جوکہ مسترد کر دی گئی۔ تاہم کمیشن نے انہیں سنیچر کی صبح نو بجے یہ سہولت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ منیر اے ملک تاہم اس وعدے سے زیادہ مطمئن دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

جسٹس وجیہہ الدین کے وکلاء کے تحریری اعتراضات کی ایک کاپی بی بی سی کو بھی ملی ہے جس میں صدر مشرف کی نامزدگی پر چودہ اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ان میں صدرمشرف کے پاس گریجویشن کی ڈگری کا نہ ہونا، وردی اتارنے سے متعلق قوم سے وعدہ خلافی، کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ان کا فوجی سربراہ ہونا، موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونا، دو مرتبہ وہ پہلے ہی صدر رہ چکے ہیں، وہ دیانتدار اور امین کی شرائط پوری نہ کرنا اور فوجی سربراہ ہوتے ہوئے ان کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شامل ہیں۔

 سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور نے جمعہ کے روز عدالت عظمٰی کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں دیئے گئے فیصلے کو قوم اور وکلاء برادری کے لیے شدید مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کی یاد تازہ ہو گئی ہے
وہاب الخیری
درایں اثناء سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور نے جمعہ کے روز عدالت عظمٰی کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں دیئے گئے فیصلے کو قوم اور وکلاء برادری کے لیے شدید مایوس کن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے سے جسٹس منیر کے نظریہ ضرورت کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔

جمعہ کی شام بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ججز کیس کے حوالے سے ملک گیر شہرت پانے والے سپریم کورٹ کے وکیل حبیب الوہاب الخیری نے کہا کہ اس فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں آزاد عدلیہ کا تصور محال ہے اور اب آئندہ انتخابات میں کھلی دھاندلی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے عوام کو اس قدر مایوس کیا ہے جو اس قدر بڑی عوامی تحریک کو جنم دے گا جو کسی ڈکٹیٹر کے بس کی بات نہیں ہوگی اور عوام کا غضب ہر شے کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اکرم شیخ نے کہا کہ 1954 سے اعلٰی عدالتوں کے جج بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ جسٹس منیر نہیں بنیں گے مگر سن 2007ء میں نصف صدی گزرنے کے بعد جسٹس منیر کا فیصلہ دوبارہ جاری کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلٰی عدلیہ نے قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ ابھی انہیں آزاد عدلیہ کے قیام کے لیے مزید جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان چھ ججوں نے جنہوں نے اس مقدمے کو ناقابل سماعت قرار دیا ہے، تین ہفتے کی سماعت کے دوران قوم کا وقت ضائع کیا اور آزاد عدلیہ کے تصور کو دھچکہ پہنچایا ہے جبکہ ان تین ججوں جنہوں نے اس سلسلے میں اختلافی نوٹ لکھے ان کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک اور سابق صدر اور حالیہ عدالتی بحران میں چیف جسٹس کے وکلا کی ٹیم کے رکن کے طور پر کام کرنے والے حامد خان نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں قوم نے عدلیہ سے جو توقعات وابستہ کی ہیں انہیں اس فیصلے سے شدید دھچکہ لگا ہے اور یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ ابھی بھی اعلٰی عدالتوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھی جج موجود ہیں جو عوام کی حکمرانی کو دل سے پسند نہیں کرتے اور اس طرح کے فیصلوں سے اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کا ایک المیہ یہ ہے کہ نو جج صاحبان پر مشتمل یہ بینچ تین ہفتوں تک اس مقدمے کی میرٹ پر سماعت کے بعد اس مضحکہ خیز نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ مقدمہ قابل سماعت ہی نہیں۔

اسی بارے میں
جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج
24 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد