شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | پریس کانفرنس میں وکلاء تحریک کو ’گو مشرف گو‘ تحریک بتایا گیا |
وکلاء برادری نے دھمکی دی ہے کہ وہ اُنتیس ستمبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے سلسلے میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کی عمارت کا گھیراؤ کریں گے۔ یہ بات جمعرات کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، چوہدری اعتزاز احسن اور علی احمد کُرد نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ منیر اے ملک نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نام نہاد صدارتی انتخاب کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کے عمل کو ناکام کرنے کی کوشش کریں گے۔ منیر اے ملک نے الزام لگایا کہ حکومت صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی خفیہ طریقے سے فائل کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ انتیس ستمبر کو پاکستان بھر کی بار ایسوی ایشنز احتجاجی اجلاس منعقد کریں گی اور مقامی حالات کے مطابق جلسے جلوس کریں گی۔  |  صدر کے دو عہدوں کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر مختلف پیٹیشنز کا فیصلہ درخواست گزاروں کے حق میں آئے گا۔ گر فیصلہ ہمارے حق میں نہ بھی آیا تو وکلاء برادری اخلاقی بنیادوں پر جدوجہد جاری رکھے گی۔  منیر اے ملک |
سپریم کورٹ بار کے صدر نے توقع ظاہر کی کہ صدر کے دو عہدوں کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر مختلف پیٹیشنز کا فیصلہ درخواست گزاروں کے حق میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہ بھی آیا تو وکلاء برادری اخلاقی بنیادوں پر جدوجہد جاری رکھے گی۔‘سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ جن اسمبلیوں کی میعاد ختم ہو رہی ہے ان کو کوئی حق نہیں کہ وہ پانچ سال کے لیے ایک باوردی شخص کو منتخب کریں۔ اس موقع پر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ’ہماری جدوجہد عدم تشدد کی بنیاد پر جاری تھی اور جاری رہے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی بحالی پر ہماری تحریک کا ایک مرحلہ ختم ہوگیا ہے اور جس قسم کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ان میں وکلاء برادری کو ساتھ لیکر چلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی وکلاء برادری میں دراڑیں ڈالنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔اعتزاز احسن نے کراچی میں وکیل کے قتل اور چکوال میں وکلاء کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی مذمت کی۔ حامد خان نے کہا کہ چکوال میں وکلاء کے پرامن مظاہرے کے بعد اُن کے خلاف سولہ ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کر کے ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال انتہائی خراب ہے، یہاں تک کہ کراچی میں کوئی بھی شخص کالے کوٹ میں نظر آئے تو وہ محفوظ نہیں ہے۔ علی احمد کُرد نے کہا کہ وکلاء کی تحریک 'گو مشرف گو' کی تحریک ہے اور یہ عدلیہ کی آزادی کی تحریک ہے۔ |