BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قوانین میں ترمیم: ماہرین میں اختلاف

حامد خان
حامد خان کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو اس قسم کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
آئینی ماہرین نے الیکشن کمیشن کی طرف سے صدارتی انتخاب کے قواعد میں تبدیلی کرنے اور صدارتی انتخاب میں سرکاری ملازمت یا کوئی دوسرا عہدہ رکھنے کی پابندی ختم کرنے کے نوٹیفیکیشن کےاجراء پر مختلف آرا کااظہار کیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان نے بی سی سی بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو غیر قانونی قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اس قسم کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوٹیفیکیشن کےاجراء سےمعلوم ہوتاہے کہ جیسے یہ خود صدر جنرل پرویز مشرف نے جاری کیا ہو۔

چیف الیکشن کمشنر پر بھروسہ نہیں
 جسٹس(ر) قاضی فاروق سپریم کورٹ کے پہلے جج تھے جنہوں نے وکلا تنظیموں کے فیصلے کے برعکس تین سال کی معیاد کو قبول کیا تھا اور تہتر کے آئین کے تحت پینسٹھ برس کے ہونے کے باوجود رٹائر نہیں ہوئے تھے۔
حامد خان

حامد خان کا کہنا تھا کہ جب صدر جنرل مشرف نے ایل ایف او یعنی لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت اعلی عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی معیاد میں تین برس کی توسیع کی تھی تو جسٹس(ر) قاضی فاروق سپریم کورٹ کے پہلے جج تھے جنہوں نے وکلا تنظیموں کے فیصلے کے برعکس تین سال کی معیاد کو قبول کیا تھا اور تہتر کے آئین کے تحت پینسٹھ برس کے ہونے کے باوجود ریٹائر نہیں ہوئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلا کا مطالبہ ہے کہ ملک میں ایک آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن ہواس کے بغیرمنضفانہ اور شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔

سابق وزیر قانون اور حکمران جماعت کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا کی رائے ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفیکیشن کا اجراء غیر آئینی نہیں ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ کے فیصلوں کے تابع ہے۔

ان کے بقول الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کے بارے میں خود فیصلہ نہیں کیا بلکہ یہ نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں ہی جاری کیا گیا ہے۔

سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کاموقف ہے کہ الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن سے آئینی پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔ ان کے بقول صدر مملکت کے دو عہدوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے روبرو زیرسماعت نظرثانی کی درخواستوں میں اسی نکتہ پر بحث ہونی ہے کہ آیا آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کا اطلاق صدر مشرف پر ہوتا ہے یا نہیں۔

مزید پیچیدگیاں
 الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن سے آئینی پیچیدگیاں پیدا ہونگی، صدر مملکت کے دو عہدوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے روبرو زیرسماعت نظرثانی کی درخواستوں میں اسی نکتہ پر بحث ہونی ہے کہ آیا آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کا اطلاق صدر مشرف پر ہوتا ہے یا نہیں۔
ایس ایم مسعود

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نظرثانی کی درخواستوں میں اس معاملے کا جائزہ لے گی۔

سوموار کو سپریم کورٹ کے روبرو صدر کے دو عہدوں سے متعلق چھ مختلف درخواستوں کی سماعت ہورہی ہے اور سپریم کورٹ کے حکم پر پہلے ہی ان درخواست کو یکجا کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن قوانین میں ترامیم کو رد کردیا ہے، پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم صرف پارلیمنٹ ہی کرسکتی ہے۔

فرحت بابر کا کہنا تھا کہ جنل مشرف صدارتی انتخاب کے لیے نااہل ہیں اس لیے انہوں نے غیر قانونی طریقے سے آئین میں ترمیم کی ہے۔

اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
باوردی صدر: سماعت پانچ کو
03 September, 2007 | پاکستان
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے
14 September, 2007 | پاکستان
مشرف کیخلاف پٹیشن منظور
06 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد