BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 September, 2007, 06:38 GMT 11:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدر کا عہدہ کب ختم ہو رہا ہے:عدلیہ کااستفسار

نظر ثانی کی اپیل پاکستان لائرز فورم کی طرف سے دائر کی گئی ہے
سپریم کورٹ نے حکومت سے جمعرات تک وضاحت طلب کی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا صدر کا عہدہ کب ختم ہو رہا ہے۔

یہ استفسار عدالت نے قاضی حسین احمد کی صدر کے دو عہدوں کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کے دوران کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بنچ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد کی صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف آئینی پٹیشن کی سماعت کر رہا ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ وہ اس پٹیشن کے ذریعے صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق دو ہزار چار کے ایکٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ جنرل مشرف اصل صدر نہیں انہیں حالات نے صدر بنا دیا تھا۔

اس موقع پر جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں جب صدر کے عہدے کی موجودہ معیاد ختم ہوگی اس کے بعد وہ دو عہدے نہیں رکھ سکیں گے‘۔ لیکن ان کا سوال تھا کہ وہ تاریخ کیا ہے جس پر صدر کی ٹرم ختم ہو رہی ہے۔

اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حکومت کے وکیل شریف الدین پیرزادہ سے کہا کہ وہ کل عدالت کو بتائیں کے صدر کا عہدہ کب ختم ہو رہا ہے۔ اس پر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

News image
 میں سمجھتا ہوں جب صدر کے عہدے کی موجودہ معیاد ختم ہوگی اس کے بعد وہ دو عہدے نہیں رکھ سکیں گے
جسٹس فقیر محمد کھوکھر

صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخابات پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر کے درمیان ہوں گے تاہم اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کا عہدہ کب ختم ہو رہا ہے۔

اس سے قبل عدالت نے سترہویں آئینی ترمیم کے خلاف پاکستان لائزر فورم کی درخواست کی سماعت دو گھنٹے تک کرنے کے بعد اسے دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا۔

وکلاء کی تنظیم پاکستان لائرز فورم نے عدالتِ عظمیٰ کے دو سال قبل ہونے والے ایک فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے یہ درخواست دائر کی تھی جس میں عدالت نے آئین میں ترامیم پارلیمنٹ کا حق قرار دیتے ہوئے سترویں آئینی ترمیم کو جائز قرار دیا تھا۔ عدالت نے اس وقت وکلاء کے اس موقف کو مسترد کر دیا تھا کہ صدر جنرل مشرف نہ تو بیک وقت دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی باوردی فرد ملک کا صدر بن سکتا ہے۔

 وکلاء کی تنظیم پاکستان لائرز فورم نے عدالتِ عظمیٰ کے دو سال قبل ہونے والے ایک فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لیے یہ درخواست دائر کی تھی جس میں عدالت نے آئین میں ترامیم پارلیمنٹ کا حق قرار دیتے ہوئے سترویں آئینی ترمیم کو جائز قرار دیا تھا۔ عدالت نے اس وقت وکلاء کے اس موقف کو مسترد کر دیا تھا کہ صدر جنرل مشرف نہ تو بیک وقت دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی باوردی فرد ملک کا صدر بن سکتا ہے

اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے 24 جون 2005 کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے۔ اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل تھے۔

آغاز میں ہی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اے کے ڈوگر ایڈوکیٹ کی اس مقدمے کو ہنگامی بنیاد پر سماعت کرنے کی درخواست کی وجہ دریافت کی۔

اس موقع پر اے کے ڈوگر نے کہا کہ ان کی نظر ثانی کی درخواست ایک ہنگامی نوعیت کے مسئلے سے متعلق ہے کیونکہ اس میں آئین میں سترہویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے جو ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے۔

سماعت کے دوران ایک مقام پر چیف جسٹس نے اے کے ڈوگر سے دریافت کیا کہ وہ کیوں سسٹم کو چلنے نہیں دینا چاہتے جو اس سال سولہ نومبر کو خود ہی اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا: ’پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا ہے۔ اس کے بعد کیا یہ مقدمہ بحث برائے بحث نہیں رہ جائے گا؟‘

جواب میں اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی بھی نظام نہیں چل رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت آئین میں نہیں لیکن اس میں کی گئی ترامیم کا جائزہ لے کر ان کے خلاف حکم دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک شخص کے فائدے کے لیے آئین میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ملک میں یہ آئینی جنگ کافی دیر سے لڑ رہے ہیں لیکن انہیں آج تک کامیابی نہیں ہوئی۔ ’اس مرتبہ میں نے پورا ہوم ورک کیا ہے۔ کوئی مجھے نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے یہ نہیں پڑھا وہ نہیں پڑھا۔‘

 کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوارالحق نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے حق کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے اپنی آئینی پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ عدالت اس پٹیشن پر فیصلہ آنے تک صدارتی انتخاب کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے

اے کے ڈوگر نے جب کہا کہ اگر کل ایسی ترمیم آتی ہے کہ پارلیمان اعلیٰ عدالتیں ختم کرنے کی ترمیم کی منظوری دے تو پھر کیا ہوگا۔ اس پر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کیا یہ نہیں ہوسکتا۔ اس پر اے کے ڈوگر کا جواب تھا کہ ہوسکتا ہے۔

پی ایل ایف نے سترہویں آئینی ترمیم کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا بھی کی۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ کو معلوم ہے حکم امتناعی دینے کی صورت میں کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی، اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟‘

پی ایل ایف کے اے کے ڈوگر نے مزید تیاری کے لیے عدالت سے مزید مہلت مانگی تو عدالت نے اس کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

ادھر جماعت اسلامی کی فوجی سربراہ کے عہدے میں توسیع کے خلاف پٹیشن ان کے وکیل حامد خان کی درخواست پر ملتوی کر دی گئی تاکہ اسی موضوع پر عمران خان کی پٹیشن یکجا کی جاسکے۔

واضح رہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوارالحق نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے حق کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے اپنی آئینی پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ عدالت اس پٹیشن پر فیصلہ آنے تک صدارتی انتخاب کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

ڈاکٹر انوار الحق نے اکتیس اگست کو دائر ہونے والی اپنی پٹیشن میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر جنرل پرویز مشرف کو وردی میں الیکشن لڑنے کی اجازت ہے تو دوسرے سرکاری ملازمین کو بھی یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ملازمت میں رہ کر الیکشن میں حصہ لیں۔

صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
صدر پرویز مشرف’وردی میری کھال‘
’فوجی وردی پہننے میں فخر محسوس ہوتا ہے‘
جنرل اور سیاست
مشرف عوامی کٹہرے میں، انجام کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
’پہلے جیسا صدر نہیں رہا‘
13 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد