BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 August, 2007, 23:39 GMT 04:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باوردی انتخاب، مخالفت کا اعلان

علی حسن گیلانی
علی حسن گیلانی سنہ دو ہزار دو میں پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے
جنوبی پنجاب سے حکمران مسلم لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی علی حسن گیلانی نے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر مشرف کے دوبارہ وردی میں انتخاب کےخلاف ہیں اور اگر انہوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا تو وہ ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔

سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ کے پارلیمانی سیکرٹری علی حسن گیلانی نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے دونوں عہدوں سے استعفے بھی مسلم لیگ کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے حوالے کیے اور کہا ہے کہ اب یہ مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی مرضی ہے کہ وہ کب انہیں سپیکر کو بھجواتے ہیں۔

علی حسن گیلانی سنہ دو ہزار دو میں پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے بہاولپور سے حلقہ ایک سو تراسی سے مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے سے متاثر ہوکر ان کا ساتھ دیا تھا لیکن پھران کے بقول وہ اپنے اس ایجنڈے کو بھول گئےتھے اور مسلم لیگ ق اور کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلےکرتے رہے۔

گیلانی نے لال مسجد آپریشن اور چیف جسٹس کے خلاف کارروائی پر صدر مشرف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان معاملات میں بھی مسلم لیگ ق کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

علی حسن گیلانی ان اراکین اسمبلی میں شامل ہیں جنہوں نے صدر مشرف کے جنوبی پنجاب کے صدارتی انتخابی مہم کے دورے کے دوران ان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ بھی چالیس سے پچاس مسلم لیگی اراکین قومی اسمبلی ایسے ہیں جو صدر مشرف کے وردی میں الیکشن لڑنے کے خلاف ہیں اور دوبارہ انتخاب میں ان کی مخالفت کریں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ اسمبلیاں تحلیل کرکے غیرجانبدار نگران حکومت کے زیرانتظام شفاف اور منصفانہ الیکشن کروائے جائیں۔

مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے علی حسن گیلانی کو مسلم لیگ ن میں خوش آمدید کہتے ہوئے انہیں بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ سب سے پہلےاس نے صدر مشرف کے خلاف بغاوت کی ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ صدر مشرف نے اگر انہیں اسمبلیوں سے انہیں منتخب کروانے کی کوشش کی تو اراکین اسمبلی انہیں مسترد کردیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگی وزیر مملکت اسحاق خاکوانی نے بھی صدر مشرف کے باوردی انتخاب کے خلاف استعفی دیا تھا جبکہ مسلم لیگ ق کے سنئیر نائب صدر کبیر علی واسطی کا کہنا ہےکہ حکمران مسلم لیگ کا ایک بڑا دھڑا صدر کے وردی میں رہتے ہوئے انتخاب کے خلاف ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ کے چودھری صاحبان یعنی چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہی صدرکے باوردی انتخاب لڑنے کے شدید حامی ہیں اسی وجہ سے حکمران مسلم لیگ میں ان کے مخالف صدر مشرف کی وردی کے مخالف بھی ہوگئےہیں۔

nawaz sharif’ تاریخ کا سیاہ باب‘
نواز شریف کا کہنا ہے بگٹی کا قتل سیاہ باب ہے
ایک پوسٹرپہلے شہبازشریف
سپریم کورٹ کا فیصلہ، جاوید سومرو کا تجزیہ
نواز شریف’فوج سے ڈیل نہیں‘
ہمیں شوکت عزیز بننا قبول نہیں ہے: نواز شریف
بینظیرڈیل کے مضمرات
بینظیر مشرف بات چیت اور پاکستانی سیاست
شرکتِ اقتدار پیکج
’امید ہے کہ پی پی مشرف مذکرات ناکام نہ ہوں گے‘
اسی بارے میں
’پہلے جیسا صدر نہیں رہا‘
13 August, 2007 | پاکستان
’مشرف پیکج کا اعلان کریں‘
22 August, 2007 | پاکستان
’پہلے شہباز جائیں گے‘
23 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد