’قوم نہیں تو ترقی کا کوئی جواز نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حکومت کی طویل اور قلیل المیعاد منصوبہ بندی میں نیشنل سکیورٹی کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار صدر مشرف نے حکومت کے وژن 2030 کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حکومت کے وژن 2030 منصوبے میں اگلے تیئس سال کے لیے معاشی اہداف کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ’اگر قوم ہی نہیں ہو گی تو ترقی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس لیے سکیورٹی سب سے اہم ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ تحفظ کبھی کمزوری سے نہیں ملتا۔ طاقت ہی تحفظ کی ضمانت ہے۔ اس لیے کسی بھی اندرونی اور بیرونی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت کا برقرار رکھنا بہت ضروری ہے‘۔ اس منصوبے کی منظوری دو ماہ قبل وزیراعظم کی زیرصدارت ہونے والے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں دی گئی تھی تاہم اسے باقاعدہ طور پر آج سے نافذ کیا گیا ہے۔ سال دو ہزار تیس تک کی منصوبہ بندی پر مشمل یہ دستاویز پلاننگ کمیشن نے تیار کی ہے۔ منصوبے میں درج تفصیلات کے مطابق آئندہ تئیس برس کے دوران ملک سے غربت کا مکمل طور پر خاتمہ کردیا جائے گا، پاکستان میں کوئی ان پڑھ نہیں ہوگا، فی کس آمدنی دس ہزار ڈالر سالانہ سے تجاوز کر جائے گی، آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد تک گر جائے گی اور ملکی معیشت کا حجم سو کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس دستاویز کے خالق اور منصوبہ بندی کمیشن کے نائب سربراہ ڈاکٹر اکرم شیخ کے مطابق ان اہداف کا حصول معیشت میں تیز رفتار ترقی، تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری، ٹیکنیکل ایجوکیشن اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا۔ پانی کو اس دور کے ایک بہت بڑے مسئلے کے طور پر پیش کرتے ہوئے تیس سالہ منصوبے میں کہا گیا ہے کہ اس مدت کے دوران تمام ڈیموں کی تعمیر مکمل کر لی جائے گی۔
وژن 2030 کے تعارفی صفحات میں بتایا گیا کہ انیس سو ننانوے کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملکی معیشت نے مثالی رفتار سے ترقی کی ہے۔ اس دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں سولہ گنا، ملکی آمدن میں تقریباً تین گنا، قومی بچت میں پانچ گنا اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں بھی پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم شوکت عزیز نے وژن پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آنے والی حکومتوں، سول سوسائٹی اور بیروکریٹس پر اس منصوبے کے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی ان چند قوموں میں ہے جن کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور آنے والے دنوں میں دس کروڑ سے زائد تعداد میں یہی نوجوان معاشی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بنیں گے۔ اقتصادی ماہرین حکومت کے وژن دو ہزار تیس پروگرام میں دیے گئے اہداف کو ملکی ترقی کے لیے اہم تو قرار دے رہے ہیں لیکن بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اہداف اور منصوبوں کو عملی شکل دینے کےمعاملے میں یہ دستاویز زیادہ مددگار نہیں ہے۔ ایوان صدر میں ہونے والی اس تقریب میں وزیراعظم شوکت عزیز، چاروں صوبوں کے گورنر و وزرا اعلیٰ، بیوروکریٹس، تاجر برادری کے نمائندوں اور سفارتکاروں نے شرکت کی۔ |
اسی بارے میں ’سیاسی استحکام ترقی کے لیےناگزیر‘11 June, 2007 | پاکستان ڈیم تو بنیں گے: مشرف02 March, 2005 | پاکستان معاشی صورت حال اور حکومتی دعوے28 December, 2006 | پاکستان ’اقتصادی ترقی کو کوئی خطرہ نہیں‘10 June, 2007 | پاکستان کالا باغ پر جلد فیصلہ ہوگا: مشرف17 December, 2004 | پاکستان مشرف کی تجاویز اور امیدیں26 October, 2004 | پاکستان ’ترقی کے مخالفوں سے بات نہیں‘10 September, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||