BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 October, 2004, 23:01 GMT 04:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی تجاویز اور امیدیں

مشرف اور منموہن سنگھ
اگر بھارت مشرف کی تجاویز کو تسلیم کربھی لیتا ہے تو اسے تب بھی کچھ کھونا ہی پڑے گا۔
بھارت کے ساتھ کشمیر کے تنازعے کو ختم کرنے کے لیےصدر مشرف کی جرت مندانہ تجاویز نے سرحد کے دونوں سمت لوگوں کو حیران کر دیا۔

جنرل مشرف کی کئی تجاویز میں سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ جس علاقے پر دونوں ملک اپنا اپنا دعوی کرتے ہیں وہاں سے فوج ہٹا لی جائے اور دونوں ملک ملکر اس کا انتظام چلائیں ۔

اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان متنازعہ خطے میں استصواب رائے کرانے کے اپنے مطالبے کو ترک کر دے گاجو کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کا اہم ستون تھا ۔

صدر مشرف کی یہ تجویز بہت سے پاکستانیوں کو ناراض کرے گی اور خاص طور پر سخت گیروں کو جنہوں نے کشمیر کی علیحدگی پسند تحریک کی حمایت کی ہے۔

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ تجاویز واقعی جرت مندانہ ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کی سمت ایک نیا قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔

لیکن کسی بھی طرح کے حل کے لیے بھارت کی حمایت اور رضامندی بھی ضروری ہے۔اور جس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔

کئی لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ بھارت صورت حال جوں کی توں رہنے میں زیادہ خوش رہےگا کشمیر کا تیسرا حصہ پاکستان کے پاس رہے اور باقی بھارت کے پاس رہے۔

لیکن ان تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے صدر مشرف نے یہ بھی کہا تھا کہ میں اس طرح کے کسی ہل سے’ نالاں‘ ہوں ۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کے باوجود اگر بھارت مشرف کی تجاویز کو تسلیم کربھی لیتا ہے تو اسے تب بھی کچھ کھونا ہی پڑے گا۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ خطے کا انتظام مشترکہ طور پر چلانے یا پھر وہاں سے فوج ہٹانا بھی مختصر مدت میں قابل عمل نہیں ہے ۔

بھارتی دفاعی تجزیہ نگار جسجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر کے کسی بھی علاقے پر مشترکہ کنٹرول اگلے 15 برس میں تو ممکن نہیں ہے ۔

کشمیر میں بھارتی فوجی

تو پھر صدر مشرف نے اچانک اس طرح کا اعلان کیوں کیا وہ بھی ایسے وقت میں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

جنرل مشرف نے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی سست رفتاری پر اکثر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کئی مرتبہ انہوں نے کھلے عام اس طرح کے بیان دئے کہ ایک سپاہی ہونے کے ناطے وہ مسائل کو حل کرنے میں افسر شاہی کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے عمل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ میڈیا کا استعمال کرکے سیاسی فضا کا جائزہ لے رہے ہیں ۔

دوسری طرف شائد بھارت کو بھی یہ بات اچھی نہیں لگی ہوگی کہ صدر مشرف مزاکرات کے موجودہ راستوں اور مواقعوں کو نظر انداز کرکے اس طرح کے بیان دے رہے ہیں۔

لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کے کسی بھی حقیقت پسندانہ اور طویل مدتی حل سے قبل کئی مسائل کو حل کرنا باقی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد