BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 October, 2004, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کشمیر پر لچک ہے تبدیلی نہیں‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیر کی خواہشات کے مطابق چاہتا ہے
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل کشمیر کی خواہشات کے مطابق چاہتا ہے
دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کو تبدیل کر دیا ہے کہا ہے کہ پاکستان نے اس مسئلہ کے پرامن حل کے لیے اپنے موقف میں ’لچک‘ پیدا کی ہے۔

انہوں نے ہفتہ وار بریفنگ میں اخبار نویسوں سے کہا کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی کوئی ’یو ٹرن‘ لیا گیا ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کے متعلق یو ٹرن نہیں لے سکتے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے بعض رہنماؤں کی جانب سے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کی نیو یارک میں ملاقات کے بعد اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور بھارتی رہنماؤں کو متنازعہ بیانات سےگریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نام نہاد سرحد پار دہشت گردی کوئی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بڑا معاملہ ہے اور وہ خلاف ورزی بند ہونی چاہیے۔

کراچی اور بمبئی میں اب تک قونصلیٹ جنرل نہ کھلنے کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ لاجسٹک معاملات کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد یہ قونصلیٹ کھل جائیں گے۔

ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے قومی مفاد میں لڑ رہا ہے اور امریکہ سمیت دیگر اتحادیوں سے تعاون کر ہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان کے انتخابات میں پاکستان مکمل طور پر غیرجانبدار رہا اور کسی قسم کی مداخلت نہیں کی۔

مسعود خان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان کے تعاون کی وجہ سے ہی ووٹنگ کی شرح اتنی زیادہ رہی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے جامع مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے جو بھارت کو ملاقاتوں کا شیڈول دیا ہے اس میں سیاچین کا ذکر نہیں تو ترجمان نے کہا کہ اس پر دفاع کے سیکریٹریز کی سطح پر بات چیت کے لیے کوشش ہورہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جامع مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے ملاقاتوں کے مجوزہ شیڈول پر ابھی اتفاق نہیں ہوا لیکن جلد ہی اسے حتمی شکل دی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد