BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 October, 2004, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر:متبادل تجاویز کی تلاش

دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملک روائتی موقف سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے پر تیار ہیں
دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ دونوں ملک روائتی موقف سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے پر تیار ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے درمیان نیویارک میں حالیہ ملاقات کے بعد پاکستانی حکومت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنے روایتی موقف سے ہٹ کر ’معقول متبادل تجاویز‘ کی تلاش کا کام کر رہی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ دفتر خارجہ سمیت مختلف سطحوں پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے متعلق معقول متبادل تجاویز کی تلاش کا کام جاری ہے۔

وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ نیو یارک میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ نےایک ’بیریئر‘ یا رکاوٹ پار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں دونوں ممالک اپنے موقف کی بات کرتے تھے لیکن اب اس کے برعکس ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے جموں وکشمیر کے حل کے لیے مختلف متبادل تجاویز تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جب کوئی تجویز سامنے آئے گی اس وقت اس پر بات کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ نیو یارک میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات نے جاری جامع مذاکرات میں جان ڈالی ہے۔

اس سوال پر کہ کیا متبادل تجاویز کی بات کرنے سے پاکستان کشمیر کے مسئلہ پر اپنے پچاس سالہ اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہو گیا تو ترجمان نےکہا کہ نصف صدی تک دونوں ممالک اپنے موقف پر ڈٹے رہے لیکن اب معقول تجاویز کی بات ہورہی ہے جو دونوں قیادتوں کی سیاسی جرات کا مظہر ہے۔

دو بھارتی جوہری سائنسدانوں پر امریکی پابندیوں کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جوہری بلیک مارکیٹ ختم کرنے کے لیے پاکستان عالمی برادری سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔

ترجمان نے ایک سوال پر واضح کیا کہ پاکستانی سائنسدانوں تک عالمی جوہری ایجنسی کے نمائندوں کو رسائی فراہم نہیں کریں گے کیونکہ پاکستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی جوہری ادارے نے ڈاکٹر قدیر خان سے انٹرویو کے لیے نہیں کہا اور نہ ہی ان کے چیف سکیورٹی افسر کو امریکہ نے ان کے حوالے کرنے کی کوئی درخواست کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے اپنے حالیہ نجی دورے کے وقت پاکستان سے فوج عراق بھیجنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔

پاکستانی صحافیوں کے بھارتی کشمیر کا دورہ کرنے پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اور اچھا ہوگا کہ دونوں جانب کے سیاسی رہمناؤں اور کارکنوں کو بھی ملنے کا موقع ملے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا دورہ کرنے والے برطانوی وزیر دفاع کے دورے کی تفصیلات کا انہیں علم نہیں۔ البتہ انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے چانسلر دس اکتوبر سے دو روزہ دورے پر پاکستان آ رہے ہیں اور ان کے ہمراہ پندرہ اہم کاروباری شخصیات بھی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد