BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارت کشمیر میں مظالم بند کرئے‘

پاکستان کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی کا اجلاس
وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین اور نامزد وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی
پاکستان کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی نے بھارت پر زور دیا ہے کہ ان کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور مظالم بند کرئے۔

کشمیر کمیٹی نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی قیدیوں کو رہا کرئے، کشمیر میں فوج کم کرئے اور مخصوص قوانین ختم کرنے کے علاوہ حقیقی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے۔

حامد ناصر چٹھہ کی سربراہی میں قائم پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے حکومت اور حزب اختلاف کے تیس سے زائد اراکین پر مشتمل اس کمیٹی کے جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں منظور کردہ قرار داد میں کیے گئے ہیں۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ کمیٹی کشمیریوں کو جموں و کشمیر کے تنازعے کا بنیادی فریق سمجھتی ہے اور اس مسلئہ کے حل کے لیے پاکستان اور بھارت میں جاری مذاکرات کے منصفانہ حل کے لیے بات چیت میں ان کی شمولیت ضروری ہے۔

کمیٹی کو اب تک ہونے والے پاک بھارت مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کرنے کے لیے دفتر خارجہ میں بریفنگ بھی دی گئی جس میں وزیراعظم نے بھی شرکت کی۔

کمیٹی کے خزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے رکن راجہ پرویز اشرف نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ قرار داد حزب اختلاف اور حکومت کے تمام اراکین نے اتفاق رائے سے منظور کی ہے۔

قرار داد میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ کنٹرول لائن پر باڑ کی تعمیر اور بغلیار ہائیڈرو پروجیکٹ کی تعمیر روکے۔ کمیٹی نے آل پارٹیز حریت کانفرنس پر زور دیا کہ وہ اس نازک موقعہ پر اندرونی اختلافات ختم کریں اور متحد ہوجائیں۔

کمیٹی نے یورپی یونین کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی مدد کو سراہا اور کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے کشمیر کے متعلق خصوصی نمائندے کی تقرری درست سمت میں اہم قدم ہوگا۔

قرار داد میں حکومت پاکستان کے اس موقف کی تائید کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ حل ہونے سے باقی چھوٹے موٹے مسائل آسانی سے حل ہوجائیں گے۔ کمیٹی نے بھارت کے ساتھ حکومت کے جامع مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کی حوصل افزائی کی ۔

دریں اثناء چودہ اگست کو پاکستان کی یوم آزادی کے موقعہ پر بھارت کے صدر اے۔پی۔جے۔عبدالکلام اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے نام مبارکباد کے بھیجے گئے پیغامات میں کہا ہے کہ بھارت پاکستان سے تعاون، دوستی اور امن کے تعلقات چاہتا ہے۔

بھارتی صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ ہمیں یقین ہے کہ اگر بات چیت کا عمل دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں آگے لے جایا گیا تو ایسا سازگار ماحول پیدا ہوگا کہ کئی مشکل معاملات کو بھی مخاطب کیا جا سکے گا،۔

جبکہ بھارتی وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ جاری بات چیت کے عمل کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں تیز اور گہرا کرنے کی ضروررت ہے،۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد