BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاسی استحکام ترقی کے لیےناگزیر‘

سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ عبداللہ یوسف
پاکستان میں سترہ لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں:عبداللہ یوسف
سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے سربراہ عبداللہ یوسف کا کہنا ہے کہ معیشت اور محصولات کی وصولی میں گزشتہ چند سال سے ہونے والی تیز رفتار ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

بجٹ میں تجویز کردہ ٹیکس اقدامات کی تفصیلات کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں عبداللہ یوسف نے کہا کہ سیاسی بے یقینی ملکی معیشت اور خاص طور پر محصولات کی وصولی کے کام کو بہت متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والے تشدد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف اس روز سی بی آر کو ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں وغیرہ کی وصولی کی مد میں تین سے چار ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا’بارہ مئی کو کراچی مکمل طور پر بند تھا۔ ایئرپورٹ، بازار، بندرگاہ وغیرہ سب کچھ بند ہوگیا۔ایسے میں کیا کاروبار ہوگا اور کیا ٹیکس وصولیاں ہوں گی۔لہذٰا سیاسی استحکام بہت ضروری ہے‘۔

 پاکستان میں سترہ لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور سولہ کروڑ کی آبادی میں ٹیکس گزاروں کی یہ شرح، خطے کے ممالک کے مقابلے میں بھی کافی کم ہے
چیئرمین سی بی آر

وفاقی بجٹ میں تجویز کردہ نئے ٹیکس اقدامات کے بارے میں عبداللہ یوسف کا کہنا تھا کہ گو کسی سیکٹر پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے تاہم چند شعبوں میں ٹیکس اور ڈیوٹی کی شرح میں ردوبدل کیا گیا ہے جس کے باعث سی بی آر کی آمدن میں چونتیس ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔

ان کے مطابق جن سیکٹرز میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ یا تبدیلی کی گئی ہے ان میں لوہے اور سٹیل کے خام مال کی درآمد، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، دوکانداروں کی آمدن، پاکستان سے بیرون ملک سفر کے لیے پاکستان سے باہر فروخت ہونے والے ہوائی جہاز کے ٹکٹس اور سی این جی فروخت کرنے والے فلنگ سٹیشن شامل ہیں۔

عبداللہ یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سترہ لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور سولہ کروڑ کی آبادی میں ٹیکس گزاروں کی یہ شرح، خطے کے ممالک کے مقابلے میں بھی کافی کم ہے جس سے وہ قطعی مطمئن نہیں ہیں اور اسے بڑھانے کے لیے مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں جنکی وجہ سے ہر سال بیس فیصد نئے ٹیکس گزار رجسٹر ہوتے ہیں۔

 جن سیکٹرز میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ یا تبدیلی کی گئی ہے ان میں لوہے اور سٹیل کے خام مال کی درآمد، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، دوکانداروں کی آمدن، پاکستان سے بیرون ملک سفر کے لیے پاکستان سے باہر فروخت ہونے والے ہوائی جہاز کے ٹکٹس اور سی این جی فروخت کرنے والے فلنگ سٹیشن شامل ہیں۔

عبداللہ یوسف کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں ٹیکس گزاروں کی تعداد کم از کم موجودہ تعداد سے دوگنی ہونی چاہیے تھی۔

چیرمین سی بی آر نے صحافیوں کو بتایا کہ ادارے کو مالیاتی اور انتظامی خودمختاری دینے کی غرض سے سی بی آر میں اصلاحات کا جامع پروگرام مکمل ہو چکا ہے جس کی منظوری کے بعد سنٹرل بورڈ آف ریونیو کا نام تبدیل ہو کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کر دیا جائے گا۔

صحافیوں نے عبداللہ یوسف سے انکے چیف جسٹس کے خلاف بیان حلفی کے بارے میں میں بھی سوالات کیے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ بخوشی ان سوالات کے جواب دے دیتے لیکن ان کے ایک مشیر نے انہیں چٹ بھجوائی ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے اس لیے انہیں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیئے۔

سرکاری ملازم لیاقت عزیزاونٹ کےمنہ میں زیرہ
سرکاری ملازم تنخواہوں میں اضافے سے ناخوش
پاکستانی عوام111 ارب کا’ریلیف‘
وفاقی بجٹ میں پاکستانی عوام کے لیے کیا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد