’غیرآئینی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نئے مالی سال کے بجٹ کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور اسے مسترد دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق سن دوہزار دو سے اب تک پیش کئے جانے والے تمام بجٹ آئین کی دفعہ ایک سو ساٹھ کی خلاف ورزی ہے۔آئین کی مذکورہ دفعہ کے تحت قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ سنہ دوہزار دو میں جاری ہونا تھا جو اب تک جاری نہیں کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر اسحاق ڈار نے اتوار ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں پیش کردہ بجٹ میں دفاعی اخراجات بشمول پینشن143.4 ارب روپے تھے لیکن موجودہ حکومت کے دور میں گزشتہ سال پنش کو نکال کر یہ اخراجات 252.63ارب ہوگئے جو 76 فیصد اضافہ تھا۔
نئے مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ کے لئے 275 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ان کا مطالبہ تھا کہ یہ ضروری ہے کہ ڈیفینس بجٹ کے اخراجات کا حساب پارلیمنٹ کے سامنے بحث اور منظوری کی لیے لایا جائے۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک کے درآمد شدگان معاشی ماہرین نے گزشتہ آٹھ برس میں 1807.25ارب روپے کے مالی خسارہ کا تحفہ دیا ہے۔ مالی خسارہ جو انیس سو ننانوے میں 179 ارب تھا خسارہ گزشتہ مالی سال میں 375.5 ہوگیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نجی کاری کرکے قومی اثاثوں کو فروخت کررہی ہے اور نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم سے خسارہ پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے بقول خسارہ پورا کرنے کے لئے نجی کاری کو رقم استعمال کرنے کی روایت ڈالی گئی ہے یہ بہت خطرہ ناک ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیورو آف سٹیٹسکٹس کو خود مختار ادارہ بنایا جائے اور اس میں ماہرین ، صحافی اور ارکان پارلیمان کوشامل کیا جائے ۔ یہ بیورو ہر سہ ماہی کے ختم ہونے کے ساٹھ دن کے اندر اپنا ڈیٹا جاری کرے صرف اسی طرح موجودہ حکومت کے ڈیٹا کو توڑ مروڑ کر استعمال کرنے کے رحجان کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی کے تناظر میں بہت کم ہے اس پر نظرثانی کی جائے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کا اندرونی قرضہ جات کم کرنے کا دعویٰ قطعی بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اندرونی قرضہ جات انیس ننانوے میں 1452.9 ارب تھے جو مارچ دو ہزار سات میں 2351.7ارب روپے ہوگئے ہیں جبکہ بیرونی قرضہ جات انیس ننانوے میں28.3 بلین ڈالر سے بڑط کر مارچ سن دو ہزار سات میں 31.08 ملین ڈالر پہنچ گئے۔ ان اعداد سےحکومت کےکشکول پھینکنے کے دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ مالی سال کے لئے سپلمنٹری گرانٹ کی تفصیلات پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیں۔ | اسی بارے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے08 June, 2007 | پاکستان پنجاب کو مالی بحران کا سامنا26 December, 2006 | پاکستان حکومت کے اضافی اخراجات پر ہنگامہ22 June, 2006 | پاکستان بلوچستان کا بجٹ، بھاری خسارہ20 June, 2006 | پاکستان سندھ وفاقی حکومت کا مقروض 16 June, 2006 | پاکستان پنجاب کے ارکان: جرنیلوں پر تنقید16 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||