عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ |  |
 | | | سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے قائدین کے حق میں نعرے لگاتے رہے |
کوئٹہ میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف سمیت حزب اختلاف کے دیگر قائدین نے کہا ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہوگا اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے عبوری حکومت کے ذریعے شفاف انتخابات کرانا ضروری ہے۔ لندن سے ٹیلیفونک خطاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء میاں نواز شریف کا کہنا تھا ’پاکستان میں کمانڈو کی وردی پہن کر باہر غیروں کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ مشرف حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، اس لیے مشرف کو اب اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے اور یہ مشرف اور پاکستان کے دونوں کے لیے بہتر ہوگا۔‘ کوئٹہ کے صادق شہید پارک فٹبال سٹیڈیم میں حزب اختلاف کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے جلسے میں کوئی پچیس سے تیس ہزار افراد شریک تھے، جو اتحاد میں شامل مختلف سیاسی جماعتوں کے پرچم اٹھائے ہوئے اپنے اپنے قائدین کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنماء اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملک میں جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں طاقت کے ذریعے خون بہایا جا رہا ہے۔ ’اکبر بگٹی کی ہلاکت کے علاوہ قبائلی علاقوں، کراچی اور لال مسجد میں بےگناہ لوگوں کو مارا گیا ہے جس کا حساب جرنیلوں کو دینا ہوگا۔‘  | حساب دینا ہوگا  اکبر بگٹی کی ہلاکت کے علاوہ قبائلی علاقوں، کراچی اور لال مسجد میں بےگناہ لوگوں کو مارا گیا ہے جس کا حساب جرنیلوں کو دینا ہوگا  مولانا فضل الرحمان |
پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور پونم کے رہنماء محمود خان اچکزئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور سرائیکیوں کو حق حاکمیت دیے بغیر حالات بہتر نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا ’جس پاکستان میں یہ سب اقوام غلام ہوں ایسا پاکستان آپ کو مبارک ہو۔‘ محمود اچکزئی نے مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو طالبان کہہ کر پکارا اور کہا ’عالم فاضل ہو جانے کے باوجود اپنی قوم اور وطن کی محبت سے علیحدہ نہیں ہوا جا سکتا۔‘ نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت پانچواں فوجی آپریشن ہو رہا ہے اور اب حکمران بلوچستان کے ساحلی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن بلوچ انہیں ایسا کبھی نہیں کرنے دیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان نے کہا ’چاہے وزیرستان، باجوڑ، ٹانک ہو یا کراچی خون پشتونوں کا بہہ رہا ہے۔‘ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا یہ دوسرا جلسہ تھا جس سے مسلم لیگ نواز کے راجہ ظفر الحق اور اقبال ظفر جھگڑا، جماعت اسلامی کے پروفیسر منور حسن، بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے قائدین رسول بخش پلیجو اور ڈاکٹر قادر مگسی نے بھی خطاب کیا۔ اے پی ایم ڈی کے جلسے کی خاص بات قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کا خلاف معمول ایک جگہ اکٹھے ہونا تھا۔ |