BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 20:23 GMT 01:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہلے جیسا صدر نہیں رہا‘

جنرل مشرف
سوموار کی شب ’ایوان صدر سے‘ کی پہلی قسط نشر ہوئی ہے
فوجی حکمراں صدر جنرل پرویز مشرف نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی عوام میں مقبولیت میں کمی آئی ہے تاہم وہ کسی کے دباؤ میں آ کر پالیسیاں ترتیب نہیں دیتے۔

یہ بات انہوں نے پیر کی رات جواب و سوال پر مبنی ایک نئے ٹی وی پروگرام ’ایوان صدر سے‘ میں کی۔ بعض مبصرین کے خیال میں یہ پروگرام صدارتی انتخابات سے قبل ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی ایک کوشش ہے۔

پروگرام میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے جن میں کرکٹ کے کھلاڑی، فنکار، شاعر اور سرمایہ کار شامل تھے، شرکت کی اور صدر سے سوالات پوچھے۔ قمیض پتلون میں ملبوس صدر بظاہر کافی پرسکون دکھائی دے رہے تھے۔

بعض مشکل سوالات جیسے کہ وہ اب ماضی کے صدر نہیں رہے جو اپنی غلطیاں مان لیا کرتے تھے، انہوں نے کافی خوشگوار موڈ میں جواب دیا۔ صدر نے ایک گھنٹے کے پروگرام میں ملک میں خودکش حملوں، مدراس اصلاحات، ڈیموں کی تعمیر اور القاعدہ اور طالبان کے خلاف ملک کے اندر امریکی کارروائی کے لیئے دباؤ سے لے کر معاشی ترقی اور استحکام سے متعلق تفصیلی جوابات دیئے۔

 ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اب ماضی کے صدر جیسے نہیں رہے اور اب اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کرتے، ان کا ہنستے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے ان کا اشارہ کس جانب ہے۔ ’میں نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجا تھا۔‘

معروف شاعر اور اکیڈمی ادبیات کے سربراہ افتخار عارف کے امریکی دھمکیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ وہ ایسے شخص نہیں جنہیں کوئی دبائے اور وہ دب جائیں۔ ’میں ایسا نہیں کہ کوئی مجھے بتائے اور میں بغیر سوچے سمجھے اسے قبول کر لوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی، عراق کے لیئے پاکستانی فورسز دینے کے لیئے کافی دباؤ ڈال رہے تھے لیکن انہوں نے اس کا مقابلہ کیا اور فورسز نہیں بھیجیں۔ ’اسی طرح ایران سے گیس پائپ لائن کے معاملے میں بھی بہت دباؤ تھا لیکن ہم نے وہیں فیصلہ کیا جو ملکی مفاد میں تھا۔‘

ملک میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی مفاد میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کی جا رہی ہیں۔

’وہ (شدت پسند) بم دھماکے کرتے ہیں اور خودکش حملے کرتے ہیں تو میرے خیال میں ساری قوم کو ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘

امریکی رہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات کے بارے میں صدر کا موقف تھا کہ بیانات وہاں بھی لوگ دیتے ہیں یہاں بھی دیتے ہیں۔ میڈیا آزاد ہے اور ہر کسی کو بولنے کی آزادی ہے۔ مجھے دو سو فیصد یقین ہے کہ سرکاری سطح پر ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘

صدر مشرف نے واضع کیا کہ وہ ملک کے اندر کارروائی کی اجازت کسی ملک کو نہیں دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اب ماضی کے صدر جیسے نہیں رہے اور اب اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کرتے، ان کا ہنستے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے ان کا اشارہ کس جانب ہے۔ ’میں نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجا تھا۔‘

ملک میں سرمایہ کاری کو موجودہ صورتحال سے نقصان کے بارے میں انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ چھ ماہ کے حالات سے سرمایہ کار پریشان ضرور ہوئے ہیں۔ ’میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ملک میں سیاسی استحکام ہوگا، انتخابات ہوں گے اور ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کریں گے۔‘

انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں نے انہیں غلط تجاویز دیں لیکن وہ ان لوگوں کو الزام نہیں دیں گے۔ ’ذمہ داری کسی تجویز کو قبول کرنے والے کی ہوتی ہے۔‘

خودکش حملہ آوروں کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے اس کی وجہ ملک میں غربت اور تعلیم کی کمی ہے۔ ’جب کوئی سمجھتا ہے کہ وہ مارا جائے گا تو حضور اور دیگر انبیاء اس کے استقبال کے لیئے آئیں گے تو وہ یہ کچھ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔‘

مدارس میں اصلاحات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعض مدارس میں انتہا پسندی سکھائی جا رہی ہے یا پھر تمام مضامین نہیں سکھائے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں مدارس کا اندراج ہوگیا ہے اور بڑی تعداد میں ملک سے غیرملکی طلبہ کو بھی واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ’جو چند سو باقی رہ گئے ہیں ان کے پاس ان کے سفارت خانے کی این او سی ہے۔ تو یہ ایک کامیاب کہانی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مدارس کے نصاب میں تبدیلی ایک رکاوٹ ضرور ہے لیکن اس میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ ’چار سال ضرور لگے ہیں۔ واقعی میں بہت دیر ہوگئی ہے۔ لیکن یہ کرنا ضرور ہے۔ میرے چیف آف سٹاف اس میں مصروف ہیں۔ چلتے ہیں رک جاتے ہیں پھر چلتے ہیں رک جاتے ہیں۔‘

متوقع انتخابات کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ انہیں امید ہے اعتدال پسند قوتیں انتہا پسندوں کو شکست دیں گی۔ ’مجھے امید ہے اعتدال پسند ایسا کریں گے ہمارے مستقبل کا انحصار اسی پر ہے۔‘

صدر مشرف’عدالتی بحران‘
میڈیا قومی مفادات کا خیال رکھے: صدر مشرف
جنرل اور سیاست
مشرف عوامی کٹہرے میں، انجام کیا ہوگا؟
مشرف’ایمرجنسی نہیں‘
انتخابات وقتِ مقررہ پر ہی ہونگے: جنرل مشرف
صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد