BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکول یرغمالی بنائے جانے کا خطرہ

فائل فوٹو
صوبائی حکام کو سکولوں کے اردگرد حفاظتی اقدامات سخت کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں
پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبوں اور شمالی علاقوں کے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں قائم انگلش میڈیم سکولوں کے اردگرد حفاظتی اقدامات سخت کر دیں۔

وزارت داخلہ نے یہ احکامات انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے دی جانے والی خفیہ رپورٹ کی روشنی میں دیے ہیں۔

بی بی سی کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مطابق اس رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ کچھ شدت پسند عناصر پرائیویٹ انگلش سکولوں پر قبضہ کرکے ان سکولوں میں زیر تعلیم طالبعلموں کو یرغمال بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شدت پسندوں کو اس منصوبے کا خیال ستمبر سنہ دو ہزار چار میں روس کی ریاست شمالی اوسیشیا کے علاقے بسیلان میں سکول کے محاصرے کے واقعہ سے ملا ہے۔ اس واقعہ کے دوران تین سو پینتیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں زیادہ تعداد سکول کے بچوں کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو مستقبل میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ جیسے واقعات اور مدرسوں پر قبضہ کرنے سے روکنا ہے۔ شدت پسندوں کا خیال ہے کہ اگر امیر طبقے کے بچوں کو نقصان پہنچا تو اعتدال پسند اور سیکولر عناصر پر اس کا نفسیاتی اثر زیادہ شدید ہوگا۔

اس رپورٹ کی روشنی میں وزارت داخلہ نے اسلام آباد کے چیف کمشنر اور پولیس کے سربراہ سمیت چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز اور چاروں صوبوں کے پولیس کے سربراہوں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں کی پولیس کے سربراہوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موسم گرما کی تعطیلات کے بعد ان سکولوں کی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کریں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش نظر اپنے اپنے علاقوں میں قائم انگلش سکولوں کے اردگرد حفاظتی اقدامات سخت کر دیں۔

واضح رہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے شدت پسندوں کی طرف سے اس واقعہ کے ممکنہ شدید ردعمل کے سلسلے میں صوبوں کو وارننگ کے خطوط لکھے تھے۔

لال مسجد کے واقعے کے بعد وفاقی دارالحکومت سمیت ملک میں متعدد خودکش حملے اور بم دھماکوں کے واقعات ہوچکے ہیں اور ان واقعات میں زیادہ تر فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
 سکول کہانی ایک سکول کی
ڈھوک چودھریاں کے سکول کا قصہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد