BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 June, 2007, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکولوں کی بہتری پاک فوج کے ذمے

سرکاری سکول
’پچاس فیصد سرکاری سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں‘
پاکستان کے سرکاری سکولوں میں بجلی، پینے کے پانی، بیت الخلاء، چار دیواری اور عمارت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے چوبیس ارب روپے سے زائد کا ایک منصوبہ پاکستان فوج کے ذریعے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ تعلیم کے شعبہ میں صدارتی اصلاحات کے تحت شروع کیا جا رہا ہے اور پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن نے اس منصوبہ کی باقاعدہ منظوری بھی دے دی ہے۔

پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کے ترجمان و سینئر جائنٹ سیکرٹری آصف شیخ نے اس منصوبہ کے حوالے سے بتایا کہ فوج نے ملک کے سرکاری سکولوں میں ان سہولیات کی عدم دستیابی کا سروے کیا تھا اور اس کو مدنظر رکھ کر یہ منصوبہ فوج کے ذریعہ مکمل کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج اس منصوبہ کی نگرانی کرے گی اور یہ منصوبہ مکمل کرائے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوج کے ذریعے یہ منصوبہ بہتر انداز میں مکمل ہوگا۔ فنڈز کا استعمال بھی بہتر ہو سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں اس منصوبہ کی لاگت اکتیس ارب روپے تھی جسے بعد میں کم کرکے چوبیس ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وفاقی وزارت تعلیم اور پاکستانی فوج کے درمیان مفاہمت کی ایک یاداشت پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔ اس یاداشت کے تحت وزارتِ تعلیم اور متعلقہ صوبائی ادارے اس منصوبے میں فوج کی طرف سے فراہم کردہ خدمات کو صیغہ راز میں رکھنے اور فوج کی اجازت کے بغیر یہ معلومات کسی کو فراہم نہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

چار دیواری سے محروم سکولوں کی تعداد چوّن ہزار ہے

اس منصوبے کو پاک فوج کی چار کور تین، پانچ، گیارہ اور بارہ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ پانچ سالوں میں پائہ تکمیل تک پہنچےگا اور وزارتِ تعلیم منصوبے کے سارے فنڈز ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو جاری کرے گی۔

انجینئرنگ کور کے کمانڈر بریگیڈئر کی سطح کے افسر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کریں گے جبکہ منصوبے کے تحت پچاس لاکھ روپے تک کا منصوبہ پراجیکٹ ڈائریکٹر جبکہ پچاس لاکھ روپے سے زائد کے منصوبے کی منظوری کور کمانڈر دے گا۔

منصوبہ کے لیے مختص فنڈز میں سے فوج کو اس منصوبے کی نگرانی کے لیے ایک سو انتالیس گاڑیاں خرید کر دی جائیں گی اور پٹرول گاڑیوں کی خریداری اور دیکھ بھال پر مجموعی طور پر اس منصوبہ سے اکتیس کروڑ روپے سے زائد خرچ کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو اس منصوبے میں خدمات سرانجام دینے پر الگ سے ڈیوٹی الاؤنس اور دیگر سہولیات جس میں رہائش بھی شامل ہوگی، فراہم کی جائے گی۔

یہ منصوبہ پانچ سالوں میں پائہ تکمیل تک پہنچےگا اور وزارتِ تعلیم منصوبے کے سارے فنڈز ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کو جاری کرے گی۔انجینئرنگ کور کے کمانڈر بریگیڈئر کی سطح کے افسر کو پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کریں گے جبکہ منصوبے کے تحت پچاس لاکھ روپے تک کا منصوبہ پراجیکٹ ڈائریکٹر جبکہ پچاس لاکھ روپے سے زائد کا منصوبہ کی منظوری کور کمانڈر دے گا۔

اس منصوبے کے تحت فوج کو گاڑیاں فراہم کرنے کے حوالے سے منصوبہ بندی کمیشن کے ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کے تحت گاڑیوں کی تعداد کم کی گئی ہے تاہم انہوں نے تعداد نہیں بتائی کہ کتنی گاڑیاں اس منصوبے کے لیے فوج کو خریدنے کی اجازت دی گئی ہے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ وزارت تعلیم یا کسی اور ادارے کی طرف سے یہ منصوبہ فوج کو دینے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا بلکہ منصوبہ بندی کمیشن نے خود یہ منصوبہ فوج کے ذریعے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں کیے گئے تعلیمی سروے کے مطابق سرکاری شعبہ میں چلنے والے پچاس فیصد سکول بجلی، پینے کے صاف پانی، چار دیواری، بیت الخلاء اور عمارت کی سہولیات سے محروم ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان میں ڈھائی لاکھ سکول ان سہولیات سے محروم ہیں۔ ان میں چار دیواری سے محروم سکولوں کی تعداد چوّن ہزار، پینے کے پانی سے محروم سکولوں کی تعداد سینتالیس ہزار، بجلی سے محروم سکولوں کی تعداد بیاسی ہزار، بیت الخلا سے محروم سکولوں کی تعداد ستاون ہزار جبکہ عمارت سے محروم سکولوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے۔

اسی بارے میں
سرحد: سکول کھولنے میں مسائل
10 November, 2005 | پاکستان
ہزاروں دیہات بغیر سکول کے
02 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد