BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہزاروں دیہات بغیر سکول کے

پاکستانی طالبات
ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیمی سہولیات کی غیر منصفانہ تقسیم ہے
ایک سرکاری ادارے کے سروے کے مطابق جنوبی پنجاب کے ساڑھے پانچ ہزار دیہات ایسے ہیں جن میں کوئی سکول موجود نہیں۔

لاہور میں قائم ادارہ پنجاب ایجوکیشنل مینجمینٹ انفارمیشن سسٹم (ای ایم آئی ایس) کی ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ دیہات لودھراں، جلالپور پیروالا، میلسی، اچ شریف، پاکپتن، رحیم یار خان، چولستان، احمد پور شرقیہ، لیاقت پور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، جام پور اور روجھان کی تحصیلوں میں واقع ہیں اور یہاں خواندگی کا تناسب بارہ فیصد ہے۔

دوسری طرف صوبہ بھر میں کل پرائمری سکولوں کی تعداد دیہات کی کُل تعداد سے زیادہ ہے جس کا مطلب ہے کہ بعض دیہات میں ایک سے زیادہ سکول موجود ہیں۔

اس سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صوبہ میں آٹھویں جماعت تک کے سرکاری سکولوں کی تعداد تین ہزار سات سو ستاسی ہے جس وجہ سے تقریبا بیالیس فیصد طالبعلم پانچویں جماعت کے بعد تعلیم حاصل نہیں کر پاتے کیونکہ ان کے علاقوں میں کوئی سکول ہی موجود نہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پرائمری سکولوں کی تعداد اڑتیس ہزار نو سو پانچ ہے۔ سروے میں پنجاب سے حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ آٹھ ہزار نئے پرائمری سکول کھولے جس کے لیے تقریباً پونے سات ارب روپے درکار ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ میں بائیس ہزار پرائمری سکولوں کو آٹھویں جماعت تک کے مڈل سکولوں کا درجہ دینے کے لیے تقریباً باون ارب روپے درکار ہیں۔

پنجاب حکومت نے ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام شروع کررکھا ہے۔ اس شعبہ میں حکومت کی کارکردگی کی تشہیر کے لیے حکومت اب تک کروڑوں روپے کے اشتہارات اخباروں اور ٹی وی چینلوں پر دے چکی ہے۔

پنجاب حکومت کے مطابق وہ سرکاری سکولوں میں طلباء کو پہلی سے دسویں جماعت تک مفت درسی کتابیں فراہم کررہی ہے۔ حکومت نے اس سال تمام مڈل یا آٹھویں تک کے سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ سال جون میں پنجاب کے وزیرتعلیم عمران مسعود نے بتایا تھا کہ صوبہ میں چالیس لاکھ بچے اور نوّے فیصد لڑکیاں میٹرک تک تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں جس کی بڑی وجہ ان کے مطابق غربت ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق گزتشہ سال تک پنجاب میں مجموعی طور پر تریسٹھ ہزار ایک سو سترہ سکول تھے جن میں نوّے لاکھ بچے زیرتعلیم تھے۔ تاہم تازہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کی میٹرک تک تعلیم مکمل نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ غربت کے علاوہ مڈل اسکولوں کا ان کے علاقوں میں نہ ہونا بھی ہے۔

گزشتہ سال پنجاب کے وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ صوبہ میں سو فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کرنے کے لیے سنہ دو ہزار سات تک پرائمری تعلیم کو لازمی قرار دے دیا جائے گا۔

پنجاب کے وزیر خزانہ علی حسنین دریشک کے مطابق پنجاب میں تعلیمی اصلاح کے پروگرام کے تحت پرائمری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی انرولمینٹ میں اس سال تک ساڑھے بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایسے تمام گاؤں جہاں کوئی پرائمری اسکول نہیں جنوبی پنجاب کے اضلاع میں واقع ہیں۔

جون میں پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے بجٹ کے موقع پر بتایا تھا کہ جنوبی پنجاب کے پانچ اضلاع بھکر، میانوالی، خوشاب، راجن پور اور لیہ معاشی ترقی کے اعتبار سے دوسرے تمام اضلاع کی نسبت زیادہ پسماندہ ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارہ یو این ڈی پی کے مطابق پنجاب سماجی ترقی کے اعشاریوں میں ملک میں سب سے ترقی یافتہ صوبہ ہے لیکن خواندگی کی شرح میں یہ سندھ سے پیچھے ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد