BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 13:34 GMT 18:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بم کی افواہیں، متعدد سکول بند

پشاور کا سکول
سکول مالکان نے دو دن کے لیے ادارے بند کیے ہیں
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں نجی تعلیمی اداروں میں بم کی مبینہ افواہوں اور خوف و ہراس کے باعث شہر کے بعض نجی سکولوں کو دو دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پشاور پولیس نے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو سکیورٹی کا معیار بہتر بنانے کی سختی سے تاکید بھی کی ہے۔

پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم نیشنل ایجوکیشن کونسل کے جنرل سیکرٹری نذر حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ جن نجی تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے ان میں پشاور میں بیکن ہاؤس کی تمام شاخیں، کیپٹل گرائمر سکول حیات آباد، روٹس پبلک سکول اور لاہور گرائمر سکول شامل ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ سکول عارضی طورپر دو دنوں یعنی جمعرات اور جمعہ کے لیے بند کیےگئے ہیں۔ نذر حسین کا کہنا تھا کہ کچھ دنوں سے پشاور میں تعلیمی اداروں کو بم حملوں کا نشانہ بنانے کی مختلف افواہیں گردش کرتی رہی ہیں جس کے باعث حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔

نذرحسین نے اس بات کی سختی سے تردید کی ان تعلیمی اداروں کو نامعلوم افراد کی طرف سے خطوط ملے تھے جس میں دھمکیاں دی گئی تھیں کہ ان سکولوں کی گرلز برانچوں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے ورنہ انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

ایک سکول کے باہر چسپاں نوٹس

انہوں نے واضح کیا کہ افواہیں کچھ اس طرح پھیلی تھیں اور یہ سب کچھ اخبارات میں بھی آیا جس کی وجہ سے سکول مالکان کو دو دن کے لیے ادارے بند کرنا پڑے۔

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق چند دن قبل وارسک روڈ پر واقع ایک نجی سکول پشاور ماڈل کو نامعلوم افراد کی جانب سے ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ انتظامیہ سکول میں لڑکیوں کی شاخ بند کردے ورنہ سکول کو خودکش حملے میں نشانہ بنایا جائے گا۔

اس واقعے کے بعد پشاور پولیس نے وارسک روڈ اور دیگر علاقوں میں واقع تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو سختی سے تاکید کی کہ وہ اپنے اپنے سکولوں کی سکیورٹی بڑھا دیں۔

ادھر صوبہ سرحد کے دوسرے بڑے شہر مردان میں بھی لڑکیوں کے ایک سرکاری سکول کو نامعلوم افراد کی طرف سے ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں دھمکی دی گئی کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اگر لڑکیوں اور استانیوں نے برقعہ پہننا شروع نہیں کیا تو سکول کو بم حملے میں نشانہ بنایا جائےگا۔

قومی اسمبلی میں
 جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی رکن مہناز رفیع اور دیگر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مردان اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں سے انہیں خط موصول ہورہے ہیں کہ سخت گیر اسلامی سوچ رکھنے والے نامعلوم عناصر بعض تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کی فراہمی بند کریں ورنہ وہ انہیں نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کا نوٹس لے اور ضروری اقدامات کرے۔
پشاور پولیس کے سربراہ عبدالمجید مروت نے بتایا کہ شہر میں حفاظتی اتنظامات بہتر بنانے کے لیے تمام نجی اور سرکاری سکولوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اپنے اپنے سکولوں کے احاطوں میں سکیورٹی بڑھا دیں ۔ انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی کہ شہر میں ایک خاتون خودکش حملہ آور داخل ہوئی ہے جس کا نشانہ تعلیمی ادارے ہیں۔

واضح رہے کہ تین ہفتے قبل پشاور میں ایک خودکش حملے میں اعلٰی پولیس اہلکاروں اور دیگر لوگوں کی ہلاکت کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات پہلے سے سخت ہیں۔

ادھر جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی رکن مہناز رفیع اور دیگر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مردان اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں سے انہیں خط موصول ہورہے ہیں کہ سخت گیر اسلامی سوچ رکھنے والے نامعلوم عناصر بعض تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کی فراہمی بند کریں ورنہ وہ انہیں نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کا نوٹس لے اور ضروری اقدامات کرے۔

اسی بارے میں
پشاور میں سکیورٹی ہائی الرٹ
15 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد