BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آدم خیل: این جی او کے دفتر میں دھماکہ

فائل فوٹو
گزشتہ دنوں ریڈ کراس کے دفتر کو دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا (فائل فوٹو)
پاکستان کے نیم خودمختار قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے سینٹر میں دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے سینٹر کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں تاہم کسی کی ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

دھماکے کے بعد اس غیر سرکاری تنظیم نے علاقے میں اپنی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کردی ہیں۔

درۂ آدم خیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی رات درہ بازار میں واقع غیر سرکاری تنظیم دوست ویلفئیر فاؤنڈیشن کے ایک بحالی سینٹر ’دارالفلاح‘ میں اس وقت پیش آیا جب مرکز میں نامعلوم افراد کی طرف سے نصب کیا گیا دھماکہ خیز مواد اچانک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس سے مرکز کی دو منزلہ عمارت کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ گئیں جبکہ قریبی دکانوں کے دروازوں اور شٹرز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد سینٹر کی نچلی منزل فلور پر نصب کیا گیا تھا۔

پشاور میں دوست ویلفئیر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر محمد ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ واقعے کے فوری بعد تنظیم نے مرکز بند کر کے علاقے میں اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کردی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکز چار کمروں پر مشتمل ہے جو نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والے افراد کےعلاج اور بحالی کے لیے بنایا گیا ہے۔ دھماکے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

درہ آدم خیل کی مقامی انتظامیہ نے پیر کی صبح آفریدی قبیلےکی ذیلی شاخ محمدخیل کے عمائدین کا ایک جرگہ طلب کیا جس میں غیر سرکاری تنظیم کے سینٹر پر حملے میں ملوث افراد کو حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاہم اس سلسلے میں تاحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

درۂ آدم خیل میں گزشتہ چند ماہ میں غیر سرکاری تنظیموں اور خواتین کے تعلیمی ادراوں میں کئی بم حملے ہوچکے ہیں جبکہ صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں گزشتہ پانچ دنوں میں غیر سرکاری امدادی اداروں پر یہ پانچواں حملہ ہے۔

اس سے قبل بٹہ گرام اور پشاور میں بھی غیر ملکی این جی اوز کے دفاتر کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد