کہانی ایک سکول کی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کے علاقے ڈھوک چودھریاں میں ایک تنگ سی گلی کے دونوں اطراف نئی عمارتوں پر کام جاری ہے۔ ان تین منزلہ عمارتوں کو گلی کے اوپر سے ایک برج سے جوڑا جائے گا اور یہ یہاں قائم سکول کی نئی بلڈنگز ہیں۔ یہ اس سکول کی نئی عمارت ہے جسے آٹھ سال پہلے راولپنڈی کی ایک رفاعی تنظیم نے شروع کیا تھا۔ شروع میں اس میں صرف چند بچے تھے ارو انہیں گھروں سے لے کر آنا پڑتا تھا، اب اس میں آٹھویں جماعت تک کی کلاسیں ہوتی ہیں اور ایک لمبی ویٹنگ لِسٹ بھی۔ اس ادارے کو اب تنظیم ’فار اے بیٹر ٹومورو‘ نے ٹی سی ایف کے حوالے کر دیا ہے جو کہ پورے ملک میں سکولوں کا نیٹورک بنا رہے ہیں۔ ’فار اے بیٹر ٹومورو‘ تنظیم کی ایک رکن مسز یاسمین فاروقی بتاتی ہیں کہ ’ہم نے یہ سکول جولائی 2005 میں ٹی سی ایف کو دے دیا کیونکہ اس کے مستقبل کے لیے یہی سب سے بہتر راستہ تھا۔‘ اس وقت سکول میں تین سو تینتیس بچے زیر تعلیم ہیں لیکن جب اسے شروع کیا گیا تو علاقے کے لوگوں سے جا جا کر کہنا پڑتا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو یہاں بھیجیں۔ ’لوگوں نے ہمیں شک کی نظروں سے دیکھا۔ ہم سے پوچھا آپ سکول کھولنا چاہتے ہیں تو کیا آپ کرسچن ہیں؟ ہم نے کہا نہیں ، کیوں؟ انہوں نے کہا کہ مسلمان تو یہ کام نہیں کرتے!‘ سکول کے 333 طالب علموں میں سے لڑکیوں کی تعداد 191 ہیں یعنی نصف سے کہیں زیادہ۔ ’ہم نے یہاں ایک چھوٹا سکول شروع کیا تو مولویوں نے بچیوں کی تعلیم کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگمات آکر بچیوں کو خراب کر دیں گی۔ مسجد کے امام سے جا کر ہم نے بات کی، انہیں راضی کیا، ان سے درخواست کی کہ آپ مسجد میں اعلان کریں کہ لوگ اپنے بچے بچیوں کو سکول بھیجیں۔‘ بعد میں جب سکول چل گیا تو مسجد میں سکول سے متعلق اعلان بھی ہوئے ’انہی مولویوں نے پھر اسی طرح کے اعلان بھی کیے کہ سکول کس تاریخ سے کھل رہا ہے وغیرہ۔‘ اس وقت سکول میں پانچویں جماعت کے بعد قائم تین جماعتوں صرف لڑکیاں پڑھ رہی ہیں لیکن سکول کی پرنسپل مِس صدف بتاتی ہیں کہ نئی عمارت میں لڑکوں کا سیکشن الگ ہوگا اور پھر انہیں پانچویں کے بعد کی جماعتوں میں داخلہ دیا جائے گا۔ نئی عمارت میں دو لائبریریاں بن رہی ہیں، میٹرک کے لیے کیمسٹری اور بائولوجی کی لبراٹریاں الگ بنیں گی اور سکول کے دو آرٹ روم ہونگے۔ پرنسپل مس صدف کے مطابق اس علاقے کی مائیں سکول کی پڑھائی کو انتہائی اہمیت دیتی ہیں۔ ’وہ کہتی ہیں کہ جس کلاس کے قابل ہے بچی، اسے اس کلاس میں لے لیں کیونکہ میں اسے میں گھر نہیں بٹھانا چاہتی۔ میں نہیں پڑھی ہوئی اور مجھے پتہ ہے کہ میں کس مشکلات سے گزر رہی ہوں، میری بیٹی کچھ پڑھ لے گی تو میرے سے بہتر ہوگی۔ ‘ پرنسپل کے مطابق اس علاقے کے خواتین کی ایک بڑی تعداد کوٹھیوں میں کام کرتی ہیں اور وہ نہیں چاہیتں کہ ان کی بیٹیاں بھی ایسے کام میں پھنس جائیں۔ آٹھویں جماعت کی طلبہ سے بات کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ماؤوں کا یہ جزبہ ان میں بھی ہے۔ وہ پڑھائی کے بارے میں انتہائی سنجیدہ ہیں اور بہت اعتماد سے بات کرتی ہیں۔ وہ ملک کی معیشت اور سماجی صورتحال پر بات کر سکتی ہیں اور تعلیم کی اہمیت کو بہت اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ ملک میں کیا بدلنا چاہیں گی تو ان میں سے کئی بچیوں نے کہاں کہ وہ اس سوچ کو بدلنا چاہتی ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک کا کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ بھی سمجھانا ہے کہ ’یہ نہیں کہ بچیوں کو ہر وقت ڈانٹے رہیں، بچیاں اللہ میاں کی رحمت ہوتی ہیں یہ نہیں کہ ہر وقت انہیں ڈانٹیں اور ماریں۔‘
علاقے میں اس سکول اور ’فار اے بیٹر ٹومورو‘ کے ایک اور سکول کے وجود سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی کا ایک مرحلہ شروع ہوتے دکھائی دیتا ہے۔ نہ صرف تعلیم کی اہمیت کا شعور پیدا ہوا ہے بلکہ لوگوں میں صفائی اور شہری اور قومی مسائل کے بارے میں آگہی بھی پیدا ہو رہی ہے۔ یہاں تقریباً آٹھ سال کے اندر ایک علاقے کے حالات میں خاصی تبدیلی آئی ہے۔ چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والا یہ سکول اب ایک قومی نیٹ ورک کا حصہ بن گیا ہے اور تعلیم کا یہ دانا ایک پھلتا پھولتا پیڑ بن رہا ہے۔ یہ ہے کہانی ایک سکول کی۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||